مذہب کے نام پر خون — Page 3
مذہب کے نام پرخون ہوتی ہے اور انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر فرشتوں کا قول درست تھا تو خدا تعالیٰ نے پھر کیوں ان کے مشورہ کو ٹھکرا دیا اور اس اعتراض کو دفرما دیا جو اس کی نیابت یعنی سلسلہ نبوت پر وارد ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر اس کے حقیقی نائب یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس کی زد میں آتے تھے۔ایک طرف اگر ہم مذہب کی تاریخ کا مطالعہ کریں خواہ دنیا کے کسی حصہ سے تعلق رکھتی ہو، شمال کی ہو یا جنوب کی ہمشرق کی ہو یا مغرب کی ہمیں مذہب کے نام پر کئے ہوئے ایسے ایسے ہولناک مظالم کا پتہ چلتا ہے کہ ان کے پڑھنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور نظر مذہبی قدروں سے مایوس ہوکر تھکی ہاری لوٹ آتی ہے۔اس وقت دل میں کچھ اس قسم کے خیالات منڈلانے لگتے ہیں کہ ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے مذہب جس سے توقع تھی کہ وہ انسانیت کو فساد اور خون ریزی سے نجات دلائے گا وہ تو خود ہی انسانیت کے خون میں ملوث نظر آتا ہے۔دوسری طرف جب خدا تعالیٰ کے اس قطعی فیصلہ کی طرف انسان کی نظر اٹھتی ہے کہ مذہب ہرگز فساد اور خون ریزی کی غرض سے قائم نہیں کیا جارہا بلکہ یہ خیال کم علمی کی پیدا وار ہے اور سراسر بے بنیاد ہے تو اگر چہ تعجب کم نہیں ہوتا مگر یاس کی تاریکی میں امید کی ایک کرن پھر روشن ہو جاتی ہے۔انسان خوشی اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ خدا تعالیٰ کے اس فیصلہ کو دیکھتا ہے کہ وہی نائب حقیقی جس سے متعلق فرشتوں نے اس شبہ کا اظہار کیا تھا کہ وہ زمین میں فساد کرے گا خدا تعالیٰ کے حضور مصلح عظم کا مقام پاتا ہے اور اس کے مذہب کا نام ہی ”اسلام“ رکھا جاتا ہے یعنی سلامتی اور امن کا مذہب۔سوال مگر پھر بھی قائم رہتا ہے یہ مانا کہ عالم الغیب خدا کا فیصلہ درست ہے اور باقی سب اندازے غلط مگر پھر وہ مقام کونسا ہے جہاں پہنچ کر تاریخ مذاہب پر دوڑنے والی ایک سرسری نظر ٹھوکر کھا جاتی ہے اور وہ مغالطہ کیا ہے جس میں پڑ کر بعض مذہب کے مخالفین یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ مذہب امن کے نام پر فساد اور سلامتی کے نام پر خون ناحق کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن کریم نہایت ہی لطیف پیرائے میں اس مغالطہ کی نشاندہی کرتا ہے اور بڑی وضاحت