مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 100

مذہب کے نام پرخون کے اندر آئے گا این بیشہ مبر گماں کہ خالی است باید که پلنگ خفته باشد ہمسایہ کا حق مگر یہ سنگ گراں بظاہر کیسا ہی کوہ گراں کیوں نہ نظر آئے مودودی صاحب کی پر تشدد پالیسی کے سامنے یہ سب روکیں بیچ ہیں اور خس راہ کی طرح اڑ جاتی ہیں چنانچہ غیروں کے لئے آپ ایک تین نکاتی پروگرام تجویز فرماتے ہیں۔اس کا پہلا جز حقوق ہمسائیگی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چوہا اگر ہمارے پاس نہیں آسکتا تو ہم تو چوہے کے پاس جاسکتے ہیں۔آپ ہمسایہ کا فر ملکوں پر حملہ کرنے کی ایک وجہ جواز پیش فرماتے ہیں جو آپ ہی کے الفاظ میں سننے کے لائق ہے:۔اسلام یہ انقلاب ایک ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں بر پا کرنا چاہتا ہے۔اگر چہ ابتداء مسلم پارٹی کا فرض یہی ہے کہ جہاں جہاں وہ رہتے ہوں وہاں کے نظام حکومت میں انقلاب پیدا کریں لیکن ان کی آخری منزل مقصود ایک عالمگیر انقلاب کے سوا کچھ نہیں لے ،، یہاں مجھے بھی مولانا سے اتفاق ہے کہ اسلام کی آخری منزل مقصود ایک عالمگیر انقلاب کے سوا کچھ نہیں مگر اختلاف یہ ہے کہ انقلاب سے مولانا کی مراد بعینہ اشتراکی انقلاب سے ہے حتی کہ نعرہ بھی وہی ہے مگر میرے نزدیک اسلام کی آخری منزل مقصود ایک روحانی عالمگیر انقلاب رونما کرنا ہے۔مولانا کا اسلامی انقلاب قدم بقدم اشتراکیت کی ڈگر پر چل رہا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک جگہ گذارش کی تھی اگر آپ مسلم پارٹی کی بجائے کمیونسٹ پارٹی پڑھنا شروع کر دیں تو مجال ہے کہ کوئی اشترا کی سمجھ سکے کہ لین کی آواز ہے کہ مودودی صاحب کی۔اشتراکی انقلاب کی بنیاد بھی ذات پر مبنی نہیں عدل پر ہے اور مودودی صاحب کا انقلاب بھی اسی مرکزی تصور کے گرد بلکہ اسی کے حقیقت جہاد صفحہ ۶۳