مذہب کے نام پر خون — Page 99
۹۹ مذہب کے نام پرخون تشدد کے کچھ اور شاخسانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی جو تصویر مولانا مودودی نے کھینچ رکھی ہے اسے دیکھ کر ایک تھوڑی سی سمجھ رکھنے والا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ تصویر ہر غیر مسلم کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے کافی ہے مودودی صاحب کے اسلام کا تصور سودا کے اس جملہ میں سمٹ آتا ہے کہ :۔لا نابے غنچے میرا قلمدان سودا ایک ہجو گو شاعر تھے اور جب کسی مخالف سے اپنی مرضی منوا نا مقصود ہوتی تو سنے میں آیا ہے کہ دھمکی کے طور پر یہ فقرہ کہا کرتے تھے۔مولانا کے اسلامی تصور کا ٹیپ کا مصرعہ بھی کچھ اسی قسم کا بنتا ہے کہ:۔لا نابے غنچے میری تلوار پس ابھی ان کی تلوار کی دھمکی ختم نہیں ہوئی اور ابھی تشدد کے کچھ اور شاخسانے باقی ہیں:۔ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگ گراں اور جب تشدد کا چکر ایک مرتبہ چل پڑا تو تشدد کے سوا اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔اب سنگ گراں راہ میں یہ آیا ہے کہ اس بھیانک تصور کو پیش کرنے کے بعد تبلیغ کے تو سارے دروازے بند ہو گئے۔چوہے دان میں تو ” چوہا اس وقت پھنسا کرتا ہے جب اسے متنبہ نہ کیا گیا ہو مگر یہاں تو وہ متنبہ کر دیا گیا ہے۔اور پیدائشی مسلمانوں کا حال بھی وہ دیکھ چکا۔عبادات کی قواعد بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں رہی۔ریزی ہوتی بھی اس نے دیکھ لی اور بغاوت کی عام تعلیم سے بھی واقف ہو گیا۔پھر وہ کیا ایسا ہی سر پھرا چوہا ہے کہ ضرور ” چوہے دان“