مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 101

1+1 مذہب کے نام پرخون بہانے گھومتا ہے اور حد یہ ہے کہ وجہ جواز بھی دونوں کی ایک ہی سی ہے اور ہمسایہ کے حقوق کا تصور بھی بعینہ ایک ہے دیکھئے مودودی صاحب فرماتے ہیں:۔”انسانی تعلقات و روابط کچھ ایسی ہمہ گیری اپنے اندر رکھتے ہیں کہ کوئی ایک مملکت بھی اپنے اصول و مسلک کے مطابق پوری طرح عمل نہیں کر سکتی جب تک کہ ہمسایہ ملک میں بھی وہی اصول و مسلک رائج نہ ہو۔لہذا مسلم پارٹی کے لئے اصلاح عمومی اور تحفظ خودی دونوں کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ کسی ایک خطہ میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنے پر اکتفاء نہ کرے لے “ آپ نے یہ ہمسایہ ملکوں کے حقوق کے بارہ میں مودودی صاحب کا ”اسلامی تصور ملاحظہ فرمالیا کہ کیا اس میں اور اشترا کی تصور میں کوئی فرق ہے؟ اب آگے چلئے کہ یہ مقصد حاصل کس طریق پر ہوگا تو وہ طریق یہ نظر آتا ہے کہ ایک طرف تو یہ مسلم پارٹی تمام ممالک کے باشندوں کو یہ دعوت دے گی کہ اس مسلک کو قبول کریں جس میں ان کے لئے حقیقی فلاح مضمر ہے دوسری طرف اگر اس میں طاقت ہوگی تو وہ لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹادے گی۔“ تشدد اور گھٹیا بزدلی کا جو امتزاج اس آخری فقرہ میں پایا جاتا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔اگر اس میں طاقت ہوگی تو وہ لڑ کر۔۔۔یا دوسرے لفظوں میں جہاں کوئی کمزور دیکھا اسے مارکوٹ کر منوالے گی اور جہاں طاقتور نظر آیا وہ دعوت نامہ نکال کر پیش کر دے گی۔کمزور مظلوم سے متعلق جس پر حملہ کیا جارہا ہو تو اس پالیسی کا تصور قابل برداشت ہے کیونکہ اس کے اختیار ہی میں نہیں ہے کہ وہ اس حملہ کو روک سکے۔وہ اگر اپنے آپ کو کمزور پا کر اس ڈر سے کہ مجھے لڑائی میں اور بھی زیادہ مار نہ پڑ جائے چپ سادھ لے تو انسان اسے معذوری کا نام دے سکتا ہے مگر ایک حملہ آور کی یہ پالیسی کہ ایک جیب میں چھرا ہو اور دوسرے میں دعوتی کارڈ اس کے لئے جو نام میرے ذہن میں آتا ہے وہ اگر میں نے لکھ دیا تو مولا نا ضرور ناراض ہوں گے اور سخت ناراض ہوں گے مگر وہ بھی بے چارے حقیقت جہاد صفحه ۶۴