مذہب کے نام پر خون — Page 98
۹۸ مذہب کے نام پرخون إِنْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ (التوبة:٨٠) کہ اگر تو ان کے لئے یعنی منافقوں کے لئے ستر مرتبہ بھی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہیں کرے گا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا وہ ایسا پیارا ہے کہ جان آپ پر نچھاور ہونے لگتی ہے اور روح قدم بوسی کرتی ہے۔آپ نے فرمایا: عمرا خدا تعالیٰ نے ستر مرتبہ فرمایا ہے میں ستر سے زیادہ مرتبہ بخشش مانگ لوں گا۔پس اے میرے آقا پر جبر و تشدد کا الزام لگانے والو! آؤ تم کہاں ہو آؤ کہ میں تمہیں اس لاثانی دل کے ساتھ متعارف کرواؤں جس کا رحم ابراہیم کے رحم سے بڑھ کر تھا اور جس کی بخشش کے سامنے مسیح کی بخشش کی کوئی حیثیت نہ رکھتی تھی۔وہ جو زمین کے ذلیل ترین کیڑوں کے ہاتھوں بھی ستایا گیا اور جس نے ظالم ترین سفاکوں کو بھی معاف کر دیا۔آؤ اور اس کریم فطرت کا نظارہ کرو اور اس حلیم دل کو دیکھو کہ جس کا صبر صبر ایوبی کو شرماتا ہے۔ہاں وہی حسن کامل کا مظہر تام جو اپنے ہر خلق میں ہر دوسرے نبی سے افضل تھا۔اس کے نورانی دسکتے ہوئے چہرہ کی طرف نگاہ کرو اور بتاؤ کہ کیا یہ وہی ہے جس کی تصویر تم نے اپنے ظلماتی قلموں سے کھینچ رکھی ہے؟ کیا یہ وہی ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں قرآن ہے؟ کاش تمہاری نگاہیں شرم سے جھک جائیں اور ندامت سے تمہاری آنکھیں خوننا بہ پڑکانے لگیں۔مگر تمہارے دل پارہ پارہ نہیں ہوتے !!!