مذہب کے نام پر خون — Page 97
۹۷ مذہب کے نام پرخون رحمت مجسم اس مجرم باپ کو اس کے بیٹے کے ہاتھوں سے بچانے کے لئے آگے آیا۔آپ کی اونٹنی جب قریب پہنچی اور آپ نے یہ ماجرا دیکھا تو فوراً اوٹنی کو آگے بڑھا کر اس کے بیٹے کو منع فرماتے ہوئے راستہ چھوڑنے کی تلقین فرمائی۔یہ تھا آپ کا سلوک ایک ایسے مرتد کے ساتھ جو سب مرتدین کا سردار تھا جس کے ارتداد کی خود خدا نے گواہی دی اور جو اپنی زبان سے اپنی انتہائی ذلت پر ہمیشہ کے لئے مہر لگا گیا لیکن جرم ارتداد کی سز اقتل قرار دینے والوں کو میں بتاتا ہوں کہ میرے محبوب آقا کا کرم یہیں پر ختم نہیں ہو جا تا بلکہ اس کے اور بھی اعلیٰ اور ارفع مقام آتے ہیں۔یہ وقت گذر گیا اور نہ اس وقت نہ اس کے بعد کسی نے اس مرتدوں کے سردار یا اس کے ساتھیوں کے خلاف تلوار اٹھائی یہاں تک کہ اس نے طبعی موت سے اپنے بستر پر جان دی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے سلوک سے یہ ثابت فرما دیا کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل نہیں اور یہ گواہی قرآن کریم میں ابد الآباد تک لکھی گئی۔آپ کا یہ سلوک ایسے مرتدین کے ساتھ جن کے ارتداد کے بارہ میں شک کا کوئی شائبہ بھی باقی نہیں رہا تھا کیونکہ یہ ارتداد کا فتوی کسی انسان نے نہیں لگایا تھا بلکہ خود اس عالم الغیب خدا نے لگایا تھا جو دلوں کے ہر راز سے واقف ہے اور سب گواہوں سے زیادہ سچا گواہ ہے ، صرف یہی نہیں کہ آپ نے اس دنیا میں اسے ارتداد کی کوئی سزا نہیں دی بلکہ رحمت کی حد یہ ہے کہ اس کی موت پر آپ کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ کہیں وہ آخرت کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائے۔حیرت ہے کہ آپ کا دل اسی کینہ ور کے لئے بے چین ہو گیا جو ہمیشہ آپ سے دشمنی کرتا رہا۔جس کا سینہ آپ کی ترقی کو دیکھ کر بغض اور عناد سے بھر جا تا تھا اور جس کا دل آپ کے حسد میں ہمیشہ جلتا رہا۔آپ اس کی موت پر اس ارادہ سے اس کے جنازہ کے لئے نکلے کہ اپنے خدا کے حضور گریہ وزاری کر کے اور اس کے غیر محدود درحم اور عفو کا واسطہ دے کر اپنے اس بد بخت دشمن کے لئے بخشش کے طالب ہوں گے۔آپ کے اس مقدس ارادہ کا اس طرح پتہ چلتا ہے کہ جب آپ جنازہ کے لئے نکلے تو حضرت عمر نے جنازہ نہ پڑھنے کا مشورہ عرض کیا لیکن جب آپ کو مصر پایا تو وہ آیت قرآنی پیش کی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: