مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 96

۹۶ مذہب کے نام پرخون مگر قطع نظر مولانا کی اس رائے کے تاریخی شواہد بتارہے ہیں کہ اس بات کے وہم تک کی گنجائش نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ اس کے خوف کی وجہ سے اسے معاف فرما دیا۔اول تو ایسے خیال کو دل میں جگہ دینا ہی اس مقدس رسول کی سخت ہتک ہے دوسرے اس بد بخت کی طاقت کی قلعی تو اسی امر سے کھل جاتی ہے کہ اس کا اپنا بیٹا اپنے باپ کو چھوڑ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی خاک کا غلام بنا ہوا تھا اور اس کی فدائیت کا یہ عالم تھا کہ جب اس نے اپنے باپ سے متعلق یہ شرم ناک بات سنی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اس کے دل میں ایک عجیب ہیجان پیدا کر دیا اور محبوب کی ہتک ہوتے دیکھ کر غیرت ایسی بھڑ کی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ نے میرے بد بخت باپ کے قتل ہی کا فیصلہ فرمایا ہے تو مجھے حکم دیجئے کہ میں خود اسے اپنے ہاتھ سے قتل کروں لیکن اس بیٹے کی پیشکش کو بھی اس رحم مجسم نے ٹھکرا دیا اور کیسی رحمت بے پایاں تھی کہ دنیا کے معززترین انسان نے ایک تنگ انسانیت ذلیل ترین مرتد کو بھی معاف فرما دیا اور پھر اس کے بعد بھی ایک عجیب واقعہ ہوا جس کی نظیر تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔جس معصوم کے خلاف وہ جرم کیا گیا تھا اس نے تو معاف فرما دیا مگر مجرم کا بیٹا اسے معاف نہ کر سکا اور جب مدینہ کی حدود میں وہ قافلہ داخل ہورہا تھا اور قریب تھا کہ عبد اللہ بن اُبی بھی داخل ہو تو یہ بیٹا جس کا سینہ ابھی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کے خیال سے کھول رہا تھا آگے بڑھا اور اپنے باپ کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔اپنی تلوار نیام سے نکال لی اور کہا کہ خدا کی قسم! میں آج تیرا سر قلم کر دوں گا اور مدینہ کی گلیوں میں گھنے نہ دوں گا جب تک تو یہاں اعلان نہ کرے کہ میں دنیا کا ذلیل ترین انسان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معزز ترین انسان ہیں۔اپنے بیٹے کے چہرہ پر ایک نظر ڈالتے ہی وہ سمجھ گیا کہ یہ جو کہتا ہے سچ کر دکھائے گا۔پس اس کی نظریں جھک گئیں اور اپنے کئے پر معذرت کرنے لگا۔اس پر بھی شائد اسے نجات نہ ملتی مگر جانتے ہو کہ اس کی نجات کو کون آیا ؟ وہی سب محبوبوں کا محبوب رسول اور وہی سب در گذر کرنے والے انسانوں سے زیادہ در گذر کرنے والا۔وہ جو ابراہیم کی دعاؤں کا ثمرہ تھا اور جس کے ظہور کی موٹی نے بھی خبر دی تھی۔ہاں وہی دلوں کو بے اختیار موہ لینے والا جس کی محبت کے داؤ ڈ گیت گا تا رہا۔وہی