مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 239

مضامین ناصر — Page 228

۲۲۸ لعن طعن و گالی گلوچ سے نہیں ڈرے۔آج ان کو میرا قرب اور رضا حاصل ہے۔اگر ہماری زندگیاں بھی ایسی ہو جائیں تو سمجھو ہم نے اپنے مقصد زندگی کو پالیا۔محترم صاحبزادہ صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا تین یا چار کتا ہیں ہماری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتیں۔یہ ہماری غفلت ہے کہ ہماری اس قسم کی کتب کی تعداد سینکڑوں تک نہیں پہنچ سکی۔مذہب میں وسعت ہے۔مختلف موضوعات پر کتب لکھی جاسکتی ہیں۔مثلاً دانت کی صفائی کا حکم اور اس کا فائدہ اطفال کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے۔بڑوں کی کس طرح عزت کرنی ہے۔اسلام اور قرآن میں زندگی کے ہر پہلو کے متعلق تعلیم موجود ہے۔نہایت سادہ اور عام فہم رنگ میں یہ باتیں بیان ہونی چاہئیں۔پہلے انبیاء کے ماننے والوں میں سے حضرت اسمعیل علیہ السلام کا واقعہ ایسا ہے کہ اس پر غور کرتے ہوئے اس وقت بھی جی چاہتا ہے کہ اس بچہ سے پیار کریں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے پیارے بیٹے اسمعیل کو کہا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت میں تمہاری قربانی دینا چاہتا ہوں تو بچے نے فورا اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اس واقعہ میں بچوں کے لئے بھی اور بڑوں کے لئے بھی ایک عظیم الشان قربانی کا سبق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خواب دیکھا تو اس کی تعبیر کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے بڑھاپے کی اولا د اور اکلوتے بچے کو فوراً خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت ابراہیم تو خدا کے نبی تھے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کو پہچانا ہوا تھا۔انہوں نے تو دل میں اس قربانی کے لئے کوئی انقباض محسوس نہ کیا۔مگر آپ نے سوچا میں تو تیار ہوں بیٹے سے بھی پوچھ لینا چاہیے وہ بھی اس قربانی کے لئے تیار ہے یا نہیں۔چنانچہ حضرت اسمعیل سے انہوں نے فرمایا فَانْظُرُ مَا ذَا تَرای خدا کا ایسا حکم ہے تمہاری اس بارہ میں کیا رائے ہے؟ حضرت اسمعیل کو بچہ تھے مگران کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی تھی کہ نہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں سوچ لوں اور اس بات کو اگلے سال پر نہیں ڈالا بلکہ کہا یابَتِ