مضامین ناصر — Page 229
۲۲۹ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ (الصفت :۱۰۳) یہ کتنا زبردست کارنامه ہے جو حضرت اسمعیل نے بچپن میں انجام دیا۔اس طرح بہت سی مثالیں دوسرے انبیاء کے ماننے والوں میں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ہمیں آنحضرت ﷺ کے وقت میں دو کم سن بچوں کی یاد آتی ہے جو اصرار کر کے جنگِ بدر میں شامل ہوئے اور ابو جہل کو قتل کر دیا۔اس واقعہ کو یاد کر کے اب بھی ہم ان کی جرأت و دلیری پر داد دیتے ہیں۔انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک غیر معمولی کارنامہ سر انجام دیا۔آخر میں محترم صاحبزادہ صاحب نے اس امر پر زور دیا کہ اگر بچوں نے کھیل کود میں اس عمر کو گزار دیا تو بعد کی زندگی میں انہیں مشکل پیش آئے گی۔لیکن سکول اور کالج کی زندگی میں اپنے او پر ختی کرو گے تو بڑی عمر ہنسی خوشی سے گزرے گی۔اس طرح دنیا کی زندگی میں قربانی کرو گے تو موت کے بعد حیات طیبہ نصیب ہوگی اور ابد الآباد کی زندگی کے لئے اس دنیوی زندگی میں ہی تیاری کرنی چاہیے۔یہ زندگی ایک قسم کا امتحان ہے اس کا نتیجہ موت کے بعد نکلے گا جس طرح تم سکول اور کالج میں امتحان کے دن محنت اور سختی سے گزارتے ہو گر نتیجہ نکلنے پرتم کو ایک لمبی خوشی نصیب ہوتی ہے۔اسی طرح تمہاری زندگی کا حال ہے۔الہی سلسلہ کے بچے فقید المثال ہوتے ہیں۔آپ لوگ اسلام کے بچے ہیں۔مسیح موعود کی جماعت کے بچے ہیں۔جسمانی لحاظ سے ماں باپ والدین ہیں۔مگر روحانی لحاظ سے مسیح موعود اور رسول کریم ﷺ کی طرف آپ منسوب ہوتے ہیں۔اگر تم حقیقی احمدی بن جاؤ تو دنیا میں کوئی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور دنیا ہمیشہ تمہیں یاد رکھے گی۔یادرکھو مسیح موعود کی طرف منسوب ہونا تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ان کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی تم ان کی حقیقی اولاد بن سکتے ہو۔انسان کی زندگی کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اگلے جہان میں بھی عمل کا سلسلہ اور ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔آخر میں آپ نے بچوں کی تربیت سے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا بچوں کی تربیت کے لئے آنحضرت عمل کا نمونہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔آپ کی صاحبزادی حضرت