مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 239

مضامین ناصر — Page 227

۲۲۷ معلوم ہوگا کہ ابھی ہم نے بہت کچھ آگے بڑھنا ہے۔ہمارے بلند مقصد کے مقابلہ پر ہماری ترقی کی رفتار بہت ہی کم ہے اور اصل مقصد تک پہنچنے میں بہت دیر لگے گی۔پاکستان میں بہت سی جماعتیں ایسی ہیں کہ جہاں ابھی تک مجالس اطفال کا قیام عمل میں نہیں آیا۔ایک سکیم کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔جہاں مجالس قائم نہیں وہاں قائم کی جائیں اور جہاں قائم ہیں ان کو زندہ رکھا جائے۔اطفال الاحمدیہ کے امتحانات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ امتحانات میں پانچ ہزار اطفال شامل ہوئے یہ تعداد خدا کے فضل سے اچھی ہے اور منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں مگر ابھی اس میں بھی ترقی کی گنجائش ہے اور اس طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔چاہیے کہ ہر طفل ان امتحانات میں شامل ہو۔اس سلسلہ میں یہ بات خاص طور پر یا درکھنی چاہیے کہ امتحانات میں شامل کرنا صرف منتظمین کا ہی کام نہیں بلکہ تمام اطفال کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ سب مل کر کوشش کریں اور ہر بچہ یہ عہد کرے کہ اس نے پانچ اور بچوں کو امتحانات میں شامل کرنا ہے۔اس طرح یہ تعداد آسانی کے ساتھ پچیس ہزار تک جا پہنچے گی۔صرف تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔آپ بجائے وقت ضائع کرنے کے علمی اور دینی کاموں میں حصہ لیں۔بچوں میں کام کرنے کی قابلیت ہوتی ہے مگر ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے۔بڑے لوگوں کی امداد اور نگرانی سے ان کو صحیح لائن پر لگایا جاسکتا ہے۔ذہنی کام کرنے اور مطالعہ سے بڑی قابلیت پیدا ہوتی ہے۔کوئی بچہ بیکار نہ ر ہے۔ہر وقت کام کرتے رہنا چاہیے۔کسی بچہ کا وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔کوئی نہ کوئی کام کرتے رہنا چاہیے۔اس دنیا کی ۶۰-۷۰ سال کی عمر کچھ بھی نہیں۔اصل زندگی موت کے بعد ہمیں ملے گی مرنے کے بعد ایک سو سال گزریں گے۔ہزار سال گزریں گے۔لاکھ سال گزریں گے مگر ہم وہاں زندہ ہی رہیں گے۔ہمیں اس دنیا کی بجائے اگلی زندگی کیلئے سامان جمع کرنے ہیں۔جولوگ اس دنیا میں خدا کی ناراضگی والے کام نہیں کرتے۔آخرت میں خدا تعالیٰ ان سے محبت کرے گا اور کہے گا کہ دنیا میں ان لوگوں نے مجھے یا د رکھا اور میرے حکموں کی تعمیل کی اور لوگوں کی