مضامین ناصر — Page 12
۱۲ کریم میں منافقین کا پورا نقشہ کھینچتا ہے اور ان کی بہت سی ایسی صلاحیتیں بتاتا ہے جن سے ایک مومن اور منافق میں فرق کیا جا سکے۔ان علامات میں سے میں چند ایک احباب جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں تا کمزوروں کو قوت ایمانی حاصل ہو اور تا جماعت جان لے کہ کس طرح یہ علامات موجودہ منافقین پر صادق آتی ہیں اور کس طرح موجودہ منافقین گزشتہ منافقین کے رنگ میں رنگین ہیں اور تا آئندہ کے لئے بھی جماعت ایسے فتنوں کے وقت ان کے مقابلہ کے لئے اپنے کو پہلے سے بھی زیادہ تیار پائے۔منافقین کی پہلی علامت اللہ تعالیٰ سورۃ توبہ میں منافقین کی علامات میں سے ایک یہ بیان فرماتا ہے۔إن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمُ (التوبة: ۵۰) کہ اگر مومنین کوکوئی بھلائی پہنچے۔اُن کے مال اُن کی اولا دوں یا ان کی کوششوں میں برکت ڈالی جائے تو منافقین حسد کے مارے جل اٹھتے ہیں اور جماعت اور مومنین کی ترقی سے انہیں بہت دکھ پہنچتا ہے۔منافقین جماعت احمدیہ کے حالات پر نظر ڈالنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ آیت انہی کے متعلق نازل کی گئی تھی۔مومنین کا تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ منافقین کا حسد اس ذات کے ساتھ ہے جس کی ترقی خاص طور پر فضل الہی پر دلیل ہے۔یعنی حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات۔اللہ تعالیٰ آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام فرماتا ہے۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا فرماتے ہیں۔۔ع کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت ะ د, دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان دعاؤں کے قبول ہونے کی بشارت بھی دی جاتی ہے۔مگر جب الہی وعدہ ایک حد تک پورا ہوتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا ئیں شرف قبولیت