مضامین ناصر — Page 13
۱۳ پاتی ہیں۔تو منافقین حسد کے مارے جل اٹھتے ہیں اور اعتراض شروع کر دیتے ہیں کہ انہوں نے کوٹھیاں بنوا لیں موٹریں رکھ لیں۔زمینیں لے لیں۔جائدادیں بنا لیں۔کاش احمدی کہلا کر انہیں کم از کم الہی وعدوں اور اپنے آقا کی دعاؤں کا ہی کچھ پاس ہوتا۔دوسری علامت دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ لَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمُ كسالى (التوبة :۵۴) یعنی منافقین خوشی سے نمازوں کے لئے نہیں آتے۔پھر سورۃ النساء : ۱۴۳ میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالی یعنی وہ نماز کے لئے آتے ہیں۔خوشی نہیں پاتے۔سنتا ہوں کہ مصری صاحب نے بھی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کولکھا ہے کہ میں ایک عرصہ سے آپ کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتا تھا اور اگر کبھی مجبور پڑھتا ہوں۔تو گھر جا کر دہرا لیتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں جب سے مصری صاحب کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے۔اسی وقت سے مصری صاحب میں نفاق کی بُو پائی جاتی ہے اور یہ آیت کریمہ اسی وقت سے ان کے نفاق پر مہر لگارہی ہے کیونکہ مسجد مبارک کی نماز جہاں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نماز ادا فرماتے ہیں۔منافقوں کے لئے ایک ابتلا ہے جو شخص مسجد مبارک کی نماز میں راحت اور شلج قلب محسوس نہیں کرتا اس کے ایمان کا حال ظاہر ہے۔مسجد مبارک کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام ہے کہ مُبَارِكْ وَّ مُبَارَكٌ وَ كُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكَ يُجْعَلُ فِيهِ یعنی وہ برکت دی گئی ہے اور برکت دینے والی ہے اور ہر برکت اس کے اندر رکھی گئی ہے۔جب شیخ صاحب مسجد مبارک میں آ کر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیچھے نماز ادا کرنے میں انشراح نہیں پاتے۔تو اُن کے لئے یہ بھی کہاں ممکن کہ وہ نماز سے قبل چند منٹ مسجد میں بیٹھ کر ذکر الہی میں خرچ کریں۔مسجد مبارک مسجد ہے ان نمازیوں کی جو نماز اور ذکر الہی میں سکون دل اور روح کی تسلی پاتے ہیں۔مصری صاحب اگر کبھی یہاں نماز ادا بھی کرتے تھے۔تو کسالی ہونے کی وجہ سے وہ اس مبارک مسجد کے فیوض سے قطعا فیض حاصل نہ کر سکتے تھے۔