مضامین ناصر — Page 11
کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر اس وقت مجھے ابلیس کے صرف منافقانہ حربوں کے متعلق کچھ کہنا ہے۔وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقِ جماعت احمدیہ کے خلاف نیا فتنہ انبیاء دنیا میں صلح اور محبت قائم کرنے کے لئے آتے ہیں۔اور یہ صلح اور محبت رضائے الہی کے حصول کا ایک زینہ ہوتی ہے۔انبیاء اور ان کی جماعتیں افراد سے نہیں بلکہ شیطانی کاموں سے نفرت کرتی ہیں اور اس نفرت کا دلیری سے اظہار کرتی ہیں۔ہم خدا کے پیارے حضرت مسیح علیہ السلام کی جماعت بھی ایک نئے فتنہ میں سے گزر رہے ہیں۔اور ضروری تھا کہ ایسا ہوتا خدا تعالیٰ کے مونہہ کی باتیں پوری ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام الہی وعدہ کی بناء پر فرماتے ہیں۔یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔“ پس ضروری ہے کہ ہمیں ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑے۔ہمیں خوف یہ نہیں کہ کہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو نقصان نہ پہنچے۔ہماری بحیثیت جماعت فتح مقدر ہے اور ہو کر رہے گی۔انشاء اللہ العزیز۔اگر ہمیں کوئی خوف ہے تو صرف یہ کہ کہیں ہم ان ذمہ داریوں میں ستی نہ دکھا ئیں جو ایسے وقت ہم پر عائد ہوتی ہیں اور ان ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم منافقین کے متعلق قرآنی تعلیم کو جماعت اور غیروں کے سامنے رکھیں۔تا ان پر اس قسم کے فتنہ کی حقیقت ظاہر ہو جائے اور تا ہر عقلمند جان لے کہ ایسے فتنوں کے اٹھانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کیا ارشاد فرماتا ہے۔قرآن میں منافقین کا ذکر قرآن کریم میں نفاق سے بچنے پر جس قدر زور دیا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے شاید ہی کسی اور گناہ سے بچنے کے متعلق اس قدر تاکید سے اور اس قدر تکرار سے کہا گیا ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن