مضامین ناصر

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 239

مضامین ناصر — Page 123

۱۲۳ اور عیب چینی ہیں۔یہ سورۃ اللہ تعالیٰ نے اس لئے نازل فرمائی ہے کہ وہ ہمیں یہ سمجھائے کہ غیبت کا دھبہ اور عیب چینی کا دھبہ انسان میں کیسے پیدا ہو جاتا ہے اور اس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟ پھر ہمیں اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ جن کا کرداران دو دھبوں کی وجہ سے داغ دار ہو کیا سلوک کرتا ہے؟ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تلقین فرمائی ہے کہ ہمیں ان دونوں برائیوں سے بچنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کے کلام کی بھی عجیب شان ہے۔اس سورۃ میں پہلا لفظ ویل استعمال ہوا ہے۔یہ لفظ اپنے معنوں کے لحاظ سے ایسا ہے کہ اس میں بیک وقت ایک قسم کی ہلاکت کی خبر بھی ہے اور ساتھ ہی ان وجوہات کا بھی ذکر ہے جن کے نتیجے میں غیبت اور عیب چینی کی بد عادتیں پیدا ہوتی ہیں۔ویل کا لفظ عذاب یا ہلاکت کے نازل ہونے پر بولا جاتا ہے اور جس کے حق میں یہ لفظ بولا جائے اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کو اپنے مال یا عزت یا راحت اور چین کے بارہ میں کوئی شدید تکلیف پہنچے گی۔اب یہاں یہ لفظ غیبت کرنے والے اور عیب چینی کرنے والے پر استعمال ہوا ہے سو یہاں مراد یہ ہے کہ وہ تمام چیزیں جنہیں انسان اچھا سمجھتا ہے اور جن کے متعلق اس کا گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے عزت ، فخر اور راحت و آرام کا موجب ہیں۔جن کے حاصل ہونے پر اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی عزت بلند ہوگئی ہے اور اس کا مرتبہ بڑھ گیا ہے۔بسا اوقات ان کا غلط استعمال ہی غیبت اور عیب چینی کی بد عادتیں پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ایسی ہی چیزوں کے نتیجے میں جو بظاہر بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں اور انسان انہیں اپنے لئے عزت اور راحت کا موجب سمجھتا ہے۔غیبت اور عیب چینی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔بالآخر یہ چیزیں ہلاک کر دی جاتی ہیں اور وہ انسان ان سے محروم و بے نصیب ہو کر سخت اذیت اور عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر وہ چیز جو انسان کے لئے بڑائی کا موجب ہوتی ہے اگر اس کو غلط نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے اور غلط رنگ میں اسے استعمال کیا جائے تو پھر وہی چیز انسان کو غیبت اور عیب چینی کی برائیوں میں مبتلا کر کے اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔