مضامین ناصر — Page 124
۱۲۴ مثال کے طور پر تقوی اللہ ہی کو لیں۔اس کے معنی ہیں خدا تعالیٰ سے صحیح معنوں میں ڈرنا۔اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا اور اس طرح مقامات قرب کو حاصل کر کے عنداللہ فائز المرام ہونا۔یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ وصف ہے لیکن جب انسان اسے غلط نقطہ نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے اور اس کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتا تو اس کے نتیجے میں ہی اس کے اندر غیبت اور عیب چینی کی بد عادتیں پیدا ہو کر اس کے لئے تباہی کا موجب بن جاتی ہیں۔اس کی واضح مثال ہمیں انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانوں میں ملتی ہے۔ہمیں ہر نبی کی بعثت کے وقت کچھ لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو اس نبی کی بعثت سے قبل ایک حد تک مقام قرب حاصل کر چکے تھے۔لیکن جس وقت اس نبی نے دعوی کیا تو اس کے بالمقابل دنیا میں شیطان کو بھی اپنے کل پرزے نکالنے کا موقع ملا اور اس نے ان کے دل میں آکر کہا تمہیں تو بڑا قرب کا مقام حاصل تھا۔تم خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے تھے۔اگر یہ منصب کسی کو ملنا ہی تھا تو تمہیں ملنا چاہیے تھا۔نبی بنتے تو تم بنتے یہ دوسرا شخص کہاں سے نبی بن گیا۔سو گویا جو نیکی پہلے سے ان میں موجود تھی اس نے تکبر کی شکل اختیار کر لی اور انہیں لے ڈوبی اور بالآخر ان کی تباہی کا موجب بن گئی۔اس خیال کے پیدا ہوتے ہی کہ انہیں خود پہلے سے بڑا مقام حاصل ہے انہوں نے اپنے مقام قرب کے گھمنڈ میں اس نبی کی غیبت شروع کر دی۔اس میں کیڑے ڈالنے لگے اور عیب چینی تک نوبت جا پہنچی۔وہ کہنے لگے یہ غریب ہے، بے علم ہے، جاہل ہے، مجنون ہے، اس میں یہ عیب ہے، اس میں وہ عیب ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود ایک حد تک نیکی کا مقام حاصل ہونے کے وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکارے گئے اور بحجز خسران اور تباہی کے ان کے حصہ میں اور کچھ نہ آیا۔اسی طرح اس دنیا میں کسی کا ترقی کر جانا اور کوئی رتبہ حاصل کر لینا اس میں بعض اوقات تکبر پیدا کر دیتا ہے اور وہ دوسروں کو ذلیل سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ہوتے ہوتے غیبت اور عیب چینی اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے یا پھر خاندانی شرف غرور کا جامہ پہن کر انسان کو ان برائیوں میں ملوث کر دیتا ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔سوترقی کرنا ، رتبہ حاصل کرنا ، اعلیٰ خاندان سے ہونا یا اور کسی نوع کی برتری کامل جانا سب اپنی ذات میں اچھی چیزیں ہیں۔لیکن جب انسان انہی