مضامین ناصر — Page 122
۱۲۲ اس طرح بنی نوع انسان کو اسلام کی شکل میں زندگی کا بہترین اور کامل ترین لائحہ عمل میسر آیا۔اس لائحہ عمل کی وجہ سے آپ کے ماننے والوں کی زندگیوں میں جو انقلاب رونما ہوا اور وہ جس بلند کر دار اور خوبصورت اعمال سے متصف ہو کر دنیا کیلئے ہدایت و رہنمائی کا موجب بنے وہ ایک ایسی تابندہ حقیقت ہے کہ دنیا اعمال و افعال اور سیرت و کردار کی اس خوبصورتی پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔انسانی کردار میں خوبصورتی پیدا کرنے اور پھر اس کے رنگ روپ اور حسن کو نکھارنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ قبیح اوصاف جو بد نما داغ اور دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں پہلے انہیں منایا اور دور کیا جائے۔اس کے بعد اوصاف حمیدہ کے خوشنما نقوش کو ابھارا اور ان کو زیادہ سے زیادہ جاذب نظر بنایا جاتا ہے۔اس وقت قرآن مجید کی جس سورۃ کا میں درس دینا چاہتا ہوں اس میں انسانی کردار کے ایسے ہی دو بدنما دھبوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اس کے حسن کو خاک میں ملا دیتے ہیں اور اس کی سب رعنائی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ سُوْرَةُ الْهُمَزَةُ میں فرماتا ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةِ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَدَهُ - يَحْسَبُ أَنَّ مَالَةَ أَخْلَدَهُ - كَلَّا لَيُنْبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ - وَمَا أَدْرِيكَ مَا الْحُطَمَةُ - نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ - إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ - ہر غیبت کرنے والے اور عیب چینی کرنے والے کے لئے عذاب (ہی عذاب) ہے۔جو مال کو جمع کرتا ہے اور اس کو شمار کرتا رہتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس (کے نام کو ) باقی رکھے گا، ہرگز ایسا نہیں (جیسا وہ خیال کرتا ہے ) وہ یقیناً ( اپنے مال سمیت حُطَمہ میں پھینکا جائے گا اور (اے مخاطب ) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ حُطَمہ کیا شے ہے۔یہ اللہ تعالی کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں کے اندر تک جا پہنچے گی۔پھر وہ آگ سب طرف سے بند کر دی جائے گی تا کہ اس کی گرمی ان کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو اور ( وہ لوگ اس وقت ) لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔خدا تعالیٰ نے ان آیات میں انسانی کردار کے دو دھبوں پر اختصار کے ساتھ لیکن بہت جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے اور ان کی مضرت کو بڑی ہی عمدگی کے ساتھ واضح فرمایا ہے۔وہ دو دھبے غیبت