مضامین ناصر — Page 121
۱۲۱ انسانی کردار کے دو بد نما داغ سُوْرَةُ الْهُمَزَةُ کی نہایت لطیف تغییر محترم جناب صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے آکسن صدر مجلس انصار اللہ مرکز بیہ نے ۲۸ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو انصار اللہ کے چھٹے سالانہ اجتماع کے موقع پر قرآن مجید کا درس دیتے ہوۓ سُوْرَةُ الْهُمَزَةُ کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی تھی۔اس میں آپ نے انسانی کردار کے دو بدنما دھبوں پر روشنی ڈال کر نہایت احسن پیرائے میں ان کی مضرت کو واضح فرمایا اور اس طرح اسلامی تعلیم کی بعض پر حکمت تفصیلات ذہن نشین کرائیں۔محترم صاحبزادہ صاحب موصوف کا یہ پر معارف درس افادہ احباب کی غرض سے ہدیہ احباب کیا جاتا ہے۔(ادارہ) اگر مذہب صرف اور صرف اعتقادات کے مجموعہ سے ہی عبارت ہوتا اور بعض مخصوص اعتقادات سے ماوراء مذہب کا اور کوئی وسیع تر مفہوم متحقق نہ ہوتا تو پھر فلسفہ اور مذہب کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا۔ارسطو، افلاطون، کانٹ ، ہیگل، روسو، ڈیکارٹ اور اسی قبیل کے سینکڑوں فلسفی دنیا میں گزرے ہیں۔ایسی صورت میں ان کے پیش کردہ نظریات اور انبیاء کی تعلیموں کے درمیان اصولی طور پر کسی واضح امتیاز کی نشاندہی ممکن نہ ہوتی۔لیکن ایسا نہیں ہے۔مذہب ہمیں صرف صحیح اعتقادات ہی نہیں سکھا تا بلکہ وہ ایک لائحہ عمل بھی پیش کرتا ہے اور ہمیں تلقین کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس لائحہ عمل کے مطابق ڈھالیں اور اس طرح دنیا میں ہر طرح ایک کامیاب زندگی بسر کریں۔ابتداء ہی سے ہر قوم اور ہر زمانے کی ضرورت کے مطابق مذہب کی شکل میں آسمانی ہدایت نازل ہوتی رہی ، یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی عالمگیر بعثت کے ذریعہ مذہب اپنے کمال کو پہنچا اور