مضامین بشیر (جلد 4) — Page 41
مضامین بشیر جلد چهارم بہتر ہے۔41 اس کی تشریح میں اس تاثر کو بیان کرنے میں حرج نہیں جو اس معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جماعت کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو ساری جماعت جانتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی تھے۔ایک دفعہ ان کا اپنی بیوی کے ساتھ کسی امر میں اختلاف ہو گیا اور حضرت مفتی صاحب اپنی بیوی پر خفا ہوئے۔مفتی صاحب کی اہلیہ نے اس خانگی ناراضگی کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بڑی بیوی کے ساتھ ذکر کیا۔غالباً ان کا منشاء یہ تھا کہ اس طرح بات حضرت اماں جان تک اور پھر حضرت مسیح موعود تک پہنچ جائے گی۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب طبیعت کے بہت ذہین اور بڑے بذلہ سنج تھے۔اس رپورٹ کے پہنچنے پر مفتی صاحب سے فرمایا ” مفتی صاحب جس طرح بھی ہو اپنی بیوی کو منالیں۔کیا آپ نہیں جانتے کہ آج کل ملکہ کا راج ہے“۔لطیفہ اس بات میں یہ تھا کہ ان ایام میں ہندوستان پر ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی اور حضرت مولوی صاحب کے الفاظ میں یہ بھی اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود مستورات کے حقوق کا بہت خیال رکھتے اور ان معاملات میں اپنے اہل خانہ کے مشورہ کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔مفتی صاحب مولوی صاحب کا اشارہ سمجھ گئے اور فوراً جا کر بیوی کو منالیا۔اور اس طرح گھر کی ایک وقتی رنجش جنت ارضی والے سکون اور راحت میں بدل گئی۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ 102 ) انسان کے اہلِ خانہ میں اس کی اولاد بھی شامل ہے اور اس میدان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسوہ بہت بلند تھا۔آپ اپنے بچوں کے ساتھ بڑی شفقت اور بڑی محبت کا سلوک فرماتے تھے۔مگر دوسری محبتوں کی طرف یہ محبت بھی محبت الہی کے تابع تھی۔چنانچہ جب ہمارا سب سے چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود کو بڑی کثرت کے ساتھ قرب وفات کے الہامات ہور ہے تھے۔آپ نے انتہائی توجہ اور جان سوزی سے اس کی تیمارداری فرمائی اور گویا تیمار داری میں دن رات ایک کر دیا۔مگر جب وہ قضائے الہی سے فوت ہو گیا تو آپ نے اس کی وفات پر یہ شعر فرما کر کامل صبر کا نمونہ دکھاتے ہوئے پورے شرح صدر کے ساتھ راضی برضاء الہی ہو گئے۔اور مرنے والے بچے کو اس طرح بھول گئے کہ گویا وہ کبھی تھا ہی نہیں۔فرماتے ہیں : ے برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا ہلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر