مضامین بشیر (جلد 4) — Page 40
مضامین بشیر جلد چهارم 40 اتنی تکلیف ہوئی ہے اور پھر تو کل کا یہ مقام ہے کہ ایک مضمون کی فصاحت و بلاغت اور اس کے معنوی محاسن پر ناز ہونے کے باوجود اس کے کھوئے جانے پر کس استغنا کے رنگ میں فرماتے ہیں کہ کوئی فکر کی بات نہیں خدا ہمیں اس سے بہتر مضمون عطا فرمادے گا!! یہ شفقت اور یہ تو کل اور یہ تحمل خدا کے خاص بندوں کے سوا کسی اور میں پایا جا نا ممکن نہیں۔ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کا ایک قریبی عزیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمانہ میں قادیان میں آکر کچھ عرصہ رہا تھا۔ایک دن سردی کے موسم کی وجہ سے ہمارے نانا جان مرحوم نے اپنا ایک مستعمل کوٹ ایک خادمہ کے ہاتھ اسے بھیجوایا تا کہ یہ عزیز سردی سے محفوظ رہے۔مگر کوٹ کے مستعمل ہونے کی وجہ سے اس عزیز نے یہ کوٹ حقارت کے ساتھ واپس کر دیا کہ میں استعمال شدہ کپڑا نہیں پہنتا۔اتفاق سے جب یہ خادمہ اس کوٹ کو لے کر میر صاحب کی طرف واپس جا رہی تھی تو حضرت مسیح موعود نے اسے دیکھ لیا اور پوچھا کہ یہ کیسا کوٹ ہے اور کہاں لئے جاتی ہو؟ اس نے کہا میر صاحب نے یہ کوٹ فلاں عزیز کو بھیجا تھا مگر اس نے مستعمل ہونے کی وجہ سے بہت بُرا مانا ہے اور واپس کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا: واپس نہ لے جاؤ اس سے میر صاحب کی دل شکنی ہوگی۔تم یہ کوٹ ہمیں دے جاؤ ہم پہنیں گے۔اور میر صاحب سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه 22 یہ ایک انتہائی شفقت اور انتہائی دلداری کا مقام تھا کہ حضرت مسیح موعود نے یہ مستعمل کوٹ خود اپنے لئے رکھ لیا تا کہ حضرت نانا جان کی دل شکنی نہ ہو ورنہ حضرت مسیح موعود کو کوٹوں کی کمی نہیں تھی۔اور حضور کے خدام حضور کی خدمت میں بہتر سے بہتر کوٹ پیش کرتے رہتے تھے۔اور ساتھ ہی یہ انتہائی سادگی اور بے نفسی کا بھی اظہار تھا کہ دین کا بادشاہ ہو کر اترے ہوئے کوٹ کے استعمال میں تامل نہیں کیا۔انسان کے اخلاق کا ایک نمایاں پہلو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سلوک سے تعلق رکھتا ہے۔میں اس معاملہ میں زیادہ بیان کرتے ہوئے طبعا حجاب محسوس کرتا ہوں اس لئے صرف اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس ارشاد نبوی کا کامل نمونہ تھے کہ: خَيْرُ كُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ ( ترندی کتاب المناقب عن رسول اللہ باب فضل از واج النبی صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی خدا کے نزدیک تم میں سے بہتر انسان وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سلوک کرنے میں