مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 521 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 521

مضامین بشیر جلد چهارم جائے۔آتھم کے مقابلہ میں جس امر پر آپ زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ 521 ” ہم دونوں پر قانون قدرت یکساں مؤثر ہے" (اشتہار انعامی دو ہزار روپیہ مورخہ 20 ستمبر 1894ء) پھر فرماتے ہیں ہم اور آتھم صاحب ایک ہی قانون قدرت کے نیچے ہیں“۔(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ ) عمر کے متعلق جو وضاحت فرمائی ہے وہ اس طرح ہے۔اگر آتھم صاحب 64 برس کے ہیں تو عاجز قریباً 60 برس کا ہے“۔(اشتہار انعامی دو ہزار روپیہ مورخہ 20 ستمبر 1894ء) پھر فرماتے ہیں۔اور بار بار کہتے ہیں (آتھم صاحب ) کہ میری عمر قریب 64 یا 68 برس کی ہے۔۔۔دیکھو میری عمر بھی تو قریب ساٹھ برس کے ہے“۔(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ ) پھر فرماتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ قریب ستر برس کی میری عمر ہے اور پہلے آپ اس سے اسی سال کے کسی پر چہ نورافشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر 64 برس کے قریب ہے۔پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ۔کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں کہ شاید میں فوت نہ ہو جاؤں۔مگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز ارادہ قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہوسکتا۔اگر آپ 64 برس کے ہیں تو میری عمر بھی قریباً 60 کے ہو چکی“۔اشتہاری انعام تین ہزار روپیہ مورخہ 5 اکتوبر 1894ء) پس ان واضح تحریروں کے ہوتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر آتھم کے بالکل برابر نہیں قرار دی جاسکتی۔بلکہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔بہتیرے سوسو برس زندہ رہتے ہیں۔مگر عبداللہ آتھم کی جیسا کہ نورافشاں میں لکھا گیا ہے صرف اب تک 64 برس کی عمر ہے۔جو میری عمر سے صرف چھ سات برس ہی زیادہ ہے۔ہاں اگر مسیح کی قدرت پراب بھروسہ نہیں رہا۔مرنے کا قانون قدرت ہریک کے لئے مساوی ہے۔جیسا آتھم صاحب اس کے نیچے ہیں۔ہم بھی اس سے باہر نہیں اور جیسا کہ اس عالم کون وفساد کے اسباب ان کی زندگی پر اثر کر رہے ہیں۔ویسا ہی ہماری زندگی پر بھی مؤثر ہیں“ (انوار الاسلام حاشیہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 37-38) پس میں سمجھتا ہوں کہ آتھم کے مقابلہ میں جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے وہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک موٹا اندازہ ہے۔اصل غرض آپ کی عمر کا تعین نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ زندہ رکھنا ار مارنا خدا کے اختیار میں ہے۔اور قانون قدرت کے اثر کے لحاظ سے دونوں کی عمروں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔دوسرا امر جو قابل غور ہے۔وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مقامات پر یہ تحریر فرمایا ہے