مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 520 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 520

مضامین بشیر جلد چهارم 520 جاتے ہیں۔یعنی اگر آپ کی پیدائش 1836 ء و 1822ء کے اندر ثابت ہو جائے تو کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔تاریخ پیدائش کا تعین یقینا ہماری طرف سے جو کچھ اس بارے میں لکھا گیا ہے اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے الہامات پورے ہو گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا تعین ایک بالکل الگ سوال ہے۔اس لئے دیکھنا چاہئے کہ ان الہامی حدود کے اندر اندر بحیثیت مجموعی آپ کی تاریخ پیدائش کہاں تک معین کی جاسکتی ہے۔تاریخ پیدائش کے فیصلہ کا طریق یہ یقینی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کواپنی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ تھی کیونکہ حضورفرماتے ہیں۔عمر کا اصل اندازہ تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 193 ) اسی طرح غالباً ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کوئی یادداشت نہیں کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر کے لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا۔ایسی صورت اصل تاریخ پیدائش کا فیصلہ دو ہی طرح ہو سکتا ہے۔یا تو کسی کے پاس کوئی ایسی مستند تحریریں جائے جس میں تاریخ پرانے زمانہ کی لکھی ہوئی ہو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مخالفین کی تحریرات پر یکجائی نظر ڈال کر دیکھا جائے کہ زیادہ میلان کس سن کی طرف ہے۔قابل غور امور پیشتر اس کے کہ مختلف تحریرات پر اس طرح نظر ڈالی جائے دو تین امور قابل غور ہیں اور وہ یہ کہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ ذیل تحریر سے ” مجھے (سید احمد علی صاحب نے انجام آتھم حاشیہ صفحہ 7 کا بھی حوالہ دیا ہے جو اس طرح ہے۔"آتھم کی عمر قریباً میرے برابر تھی۔پھر اس کتاب کے صفحہ 206 پر فرمایا " كمثل كان فى عمر وهن ) دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی۔یعنی قریب 64 سال کئے۔(اعجاز احمدی صفحہ 3) یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ آٹھم 27 جولائی 1896 ء کومرا تھا۔(انجام آتھم صفحہ 1) اس لئے آپ کی عمر 76 سال ہوئی درست نہیں معلوم ہوتا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے جس رنگ میں اپنی عمر آتھم کے برابر ظاہر کی ہے وہ ایسا نہیں کہ صرف ایک حوالہ کو لے کر نتیجہ نکال لیا