مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 522 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 522

مضامین بشیر جلد چهارم 522 کہ ”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف فرمایا۔( تریاق القلوب صفحہ 68 و براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 105۔اور آئینہ کمالات اسلام صفحہ 548) لیکن جہاں تک مجھے علم ہے۔آپ نے یہ کہیں فرمایا۔”سب سے پہلا الہام قریباً 25 برس سے ہو چکا ہے۔یہ اندازہ لگانا کہ چونکہ اربعین 1900 ء میں تالیف ہوئی۔اس لئے آپ کی پیدائش 1825ء میں ثابت ہوئی۔درست نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ ثمانين حولاً والا الہام سب سے پہلا الہام ہے اور نہ یہ کہ سب سے پہلا الہام چالیس برس کی عمر میں ہوا۔تیسرا امر یہ ہے کہ ایک کتاب کی کسی عبارت کو اس کتاب کی تاریخ اشاعت سے ملا کر نتیجہ نکالتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ عبارت کے لکھے جانے کی تاریخ اور کتاب کی تاریخ اشاعت میں بہت بڑا فرق ممکن ہے۔مثلا نزول مسیح اگست 1909ء میں شائع ہوئی ہے لیکن اس کا صفحہ 117۔اگست 1902ء میں لکھا گیا۔جیسا کہ اس صفحہ پر لکھا ہے۔” آج تک جو 10 اگست 1902ء ہے۔البتہ اشتہارات اور ماہواری رسائل کی صورت اور ہے۔ان کی تاریخ اشاعت پر نتیجہ نکالنے میں غلطی کا کم احتمال ہے۔حقیقۃ الوحی ایک ضخیم کتاب ہے۔اس کے صفحہ 201 پر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔”میری عمر اس وقت 68 سال کی ہے۔یہاں ظاہر ہے کہ لفظ ” اس وقت سے کتاب کی تاریخ اشاعت فرض کرنا نہایت غلط ہو گا۔کیونکہ اشاعت کی تاریخ 15 مئی 1907 ء کتاب پر لکھی ہوئی ہے۔66 چوتھی بات قابل غور یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر شمسی حساب مدنظر رکھتے تھے۔یا قمری۔سو اس کے متعلق جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔عام طور پر آپ کا طریق اپنی تصانیف، اشتہارات اور خطوط میں ملک کے رواج کے مطابق شمسی حساب اور تاریخ کا شمار تھا۔گو قمری سن بھی کہیں کہیں درج کیا گیا ہے۔مگر کثرت سے عموماً سمی طریق کو ہی آپ مد نظر رکھتے تھے۔اس لئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عمرکا انداز و بیان فرمایا ہے وہاں شمسی سال ہی مراد لئے جائیں گے۔قمری نہیں۔خواہ کہیں کہیں قمری سن بھی آپ نے بیان فرما دیا ہو۔$1833 اب دیکھنا چاہئے کہ بحیثیت مجموعی آپ کی تاریخ پیدائش کہاں تک معین کی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔” جب میری عمر 40 برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف فرمایا