مضامین بشیر (جلد 4) — Page 445
مضامین بشیر جلد چهارم 445 " بھری ہوئی ہوگی (ابوداؤد جلد 2 کتاب المهدی) یہ خیال کہ اسلام میں ایک خونی مہدی کی پیشگوئی کی گئی ہے جو اسلام کو دنیا میں جبر کے ساتھ پھیلائے گا ، بالکل غلط اور باطل اور بے بنیاد ہے۔اسلام میں کوئی ایسی پیشگوئی نہیں۔یہ سب کو تہ بین لوگوں کے سطحی خیالات ہیں کہ استعارے کے کلام کو حقیقت پر محمول کر لیا گیا ہے۔اس کے لئے بے شمار قرآنی صراحتوں کے علاوہ صرف یہی عقلی دلیل کافی ہے کہ جبر کے نتیجہ میں اخلاص کی بجائے نفاق پیدا ہوتا ہے یعنی یہ کہ دل میں کچھ ہو اور ظاہر اور کیا جائے اور اسلام سے بڑھ کر نفاق کا کوئی دشمن نہیں۔قرآن تو یہاں تک فرماتا ہے کہ منافق لوگ قیامت کے دن جہنم کے بدترین حصہ میں ڈالے جائیں گئے ❤2% حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا بنیادی دعوی مسیحیت کا دعوی ہے یعنی آپ نے اُس مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا جس کی خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں امت محمدیہ کے لئے پیشگوئی فرمائی تھی اور اطلاع دی تھی کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں میں مسیح ناصری کا ایک مثیل ایسے وقت میں ظاہر ہوگا جبکہ دنیا میں مسیحیت کا بڑا زور ہوگا اور نصرانیت تمام اکناف عالم میں غلبہ پا کر اپنے مشرکانہ عقائد اور مادی نظریات کا زہر پھیلا رہی ہوگی۔امت محمدیہ کا یہ مسیح اسلام کی طرف سے ہو کر مسیحیت کے باطل عقائد کا مقابلہ کرے گا۔اور اپنے روشن دلائل اور روحانی طاقتوں کے ذریعہ مسیحیت کے غلبہ کو توڑ دے گا۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ۔خدا ضر ور ضرور اسی طرح مسلمانوں میں خلفاء بنائے گا جس طرح کہ اس نے اس سے پہلے (موسیقی کی امت میں ) خلفاء بنائے اور ان خلفاء کے ذریعہ خدا اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور دین کے میدان میں مسلمانوں کی خوف کی حالت کو امن کی حالت سے بدل دے گا“ اسی طرح حدیث میں ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم تفصیل اور تشریح سے فرماتے ہیں۔دوست غور سے (النور: 56) سنیں کہ کس شان سے فرماتے ہیں کہ۔" مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرورضر در مسیح ابن مریم اس شان سے ظاہر ہوگا ( کہ گویا وہ آسمان سے اُتر رہا ہے ) جو حَكَمُ و عَدل بن کر تمہارے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔وہ مسیحیت کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر صلیبی مذہب کی شوکت کو تو ڑ کر رکھ دے گا“۔( صحیح بخاری۔باب نزول عیسی )