مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 446 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 446

مضامین بشیر جلد چهارم 446 حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ نے خدا سے الہام پا کر دعوی کیا کہ میں وہی مہدی اور وہی مسیح ہوں جس کے ہاتھ پر بالآخر اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی ترقی اور مسیحیت کی شکست مقدر ہے۔اور دراصل غور کیا جائے تو مہدویت اور مسیحیت کے دعوے حقیقتا ایک ہی ہیں۔کیونکہ وہ ایک ہی دعوے کی دو شاخیں ہیں۔صرف دو جہتوں کی وجہ سے انہیں دو مختلف نام دے دیئے گئے ہیں۔اسی لئے ان دو پیشگوئیوں میں حالات بھی ایک جیسے بیان کئے گئے ہیں۔مہدی ہونے کے لحاظ سے آنے والے کے ہاتھ پر اسلام کی تجدید مقدر تھی اور ازل سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ جب آخری زمانہ میں مسلمانوں میں تنزل کے آثار پیدا ہوں گے اور مسلمانوں کے عقائد میں بھی فتور آ جائے گا تو اُس وقت اس امت کا مہدی ظاہر ہوکر مسلمانوں کے بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرے گا اور مسلمانوں کو اپنے آسمانی علم کلام اور باطنی نور ہدایت اور خدا داد اور روحانیت کے زور سے بلندی کی طرف اٹھاتا چلا جائے گا۔دوسری طرف مسیح ہونے کے لحاظ سے آنے والے مصلح کا یہ کام تھا کہ وہ مسیحیت کے غلبہ کے وقت ظاہر ہو کر صلیب کے زور کو توڑ دے گا اور اسلام کو پھر اس کے دور اول کی طرح دنیا میں غالب کر دے۔سو در اصل یہ دونوں نام ایک ہی مصلح کو دیئے گئے ہیں۔اسی لئے ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں صاف طور پر فرماتے ہیں کہ۔وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسى ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدۃ الایمان ) یعنی اے مسلمانو ! سن لو کہ آنے والے عیسی کے سوا کوئی اور مہدی موعود نہیں ہے۔3۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں در حقیقت یہ دونوں نام جمالی صفات کے مظہر ہیں اور ضروری تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ موجودہ زمانہ میں کسی قوم کی طرف سے مسلمانوں پر دین کے معاملہ میں جبر نہیں کیا جاتا۔اور ظاہر ہے کہ امن کی حالت میں جبکہ دین کے معاملہ میں کسی غیر قوم کی طرف سے مسلمانوں پر جبر نہ کیا جار ہا ہو جبر سے کام لینا قرآن مجید کی صریح ہدایت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ:257) (یعنی دین کے معاملہ میں ہرگز کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے ) کے قطعی طور پر خلاف ہے۔بلکہ یہ ایک انتہائی ظلم وتعدی کا فعل ہے جس کی اسلام کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دیتا۔حضرت مسیح ناصری ، حضرت موسے کے بعد جن کے وہ خلیفہ تھے اور موسوی شریعت کے پابند تھے چودہ سو سال بعد جمالی رنگ میں مبعوث ہوئے اور یہودی لوگ اپنے زعم باطل میں جھوٹی امیدیں لگا کر ایلیا نبی کے نزول کے لئے جس کا ان کو وعدہ دیا گیا تھا ( سلاطین باب 20 آیت 11 دمتی باب 11 و 17 ) آسمان کی طرف دیکھتے رہ گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ بھی