مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 444 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 444

مضامین بشیر جلد چهارم 444 ہے۔آپ نے اس دعوی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دو بعثیں مقدر کر رکھی تھیں۔ایک بعثت اسلام کے دور اول کے ساتھ مخصوص تھی جو جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور محمدیت کی شان کی مظہر تھی۔اور دوسری بعثت جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے جمالی نام احمد کے ساتھ وابستہ تھی ، آخری زمانہ میں حضور سرور کائنات کے ایک خادم اور نائب کے ذریعہ مقدر تھی۔یہی وہ بعثت ہے جس کی طرف قرآن مجید کی سورۃ جمعہ میں آیت اخَرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی آخری زمانہ میں ایک جماعت ظاہر ہوگی جس کی رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بروز اور نائب کے ذریعہ تربیت فرمائیں گے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلے اللہ علیه وسلم پر اخَرِينَ مِنْهُمُ والی آیت نازل ہوئی تو صحابہ کے دریافت کرنے پر کہ یا رسول اللہ! یہ اخَرِينَ مِنْهُمُ کی جماعت کون ہے؟ آپ نے اپنے صحابی حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ۔اگر ایمان دنیا سے اٹھ کر ثریا کے دُور و دراز ستارے پر بھی چلا گیا تو پھر بھی ان اہل فارس میں سے ایک شخص اسے دوبارہ دنیا میں اتار لائے گا ( صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن باب قوله و آخرین منھم لما یلحقوا بهم ) سواس زمانہ میں جو لا ریب اخرین کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی) کے اخمد نام کی جمالی شان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ جونسلی لحاظ سے فارسی الاصل تھے دنیا میں ظاہر ہو اور اسلام اپنے وسطی دور کی کمزوری کے بعد پھر غیر معمولی ترقی اور عالمگیر غلبہ کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے وسیع فاتحانہ تبلیغی نظام کے ذریعہ جس نے خدا کے فضل سے ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اس غلبہ کا بیج بویا جا چکا ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر لکھا ہے اب یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جو ا سے روک سکے۔یہی وہ مقام مہدویت ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں بڑی تحدی کے ساتھ فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ۔اگر دنیا کی زندگی میں صرف ایک دن باقی ہو گا تو تب بھی خدا اس دن کو لمبا کر دے گا تا وقتیکہ وہ اُس شخص کو مبعوث کر دے جو میرے اھل یعنی میرے عزیزوں میں سے ہوگا اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا ( یہ استعارہ کے رنگ میں کامل موافقت کی طرف اشارہ ہے ) اور وہ ظاہر ہو کر اپنے نور ہدایت کے ذریعہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔حالانکہ وہ اس سے پہلے ظلم وجور سے