مضامین بشیر (جلد 4) — Page 402
مضامین بشیر جلد چهارم 402 کہ ایسی باتوں میں احتیاط رکھیں۔وہ یقینا سچی بات کہیں اور حق بات کہنے میں کسی سے نہ ڈریں۔مگر ایسے رنگ میں بات کہیں جس میں غلط نہی پیدا ہونے کا امکان نہ ہو خدا فرماتا ہے کہ اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور خدا سے بڑھ کر سچا کون ہو سکتا ہے؟ (محرره 12 اکتوبر 1962ء) روزنامه الفضل 17 اکتوبر 1962ء) خدام اپنی تنظیم میں منسلک ہو کر احمدیت کے پُر زور شیدائی اور فدائی بن کر رہیں اکیسویں سالانہ اجتماع کے موقع پر مجلس خدام الاحمدیہ کے ہال کا سنگ بنیادرکھنے کی با برکت تقریب سے خطاب خدام الاحمدیہ کے اکیسویں سالانہ اجتماع کے دوسرے روز یعنی مورخہ 20 اکتوبر 1962 ء بروز شنبہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ہال اور دفتر کی بنیاد رکھنے کے لئے محترم سید داؤ د احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی درخواست پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور خطاب کے بعد ایک پُر سوز اجتماعی دعا کرائی۔آپ نے فرمایا۔مجھے خوشی ہے کہ مجھ کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ایسی تقاریب جماعتوں اور تنظیموں کے لئے بڑی برکت، سعادت اور مضبوطی کا موجب ہوتی ہیں بشرطیکہ اُس روح کو سمجھا جائے جو ایسی تقریبوں کے پیچھے کام کر رہی ہوتی ہے جیسا کہ عزیز داؤ داحمد نے ابھی کہا ہے اصل چیز عمارتیں نہیں بلکہ وہ روح ہے جو ان کی تعمیر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اللہ کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ اس کو پہنچتا ہے۔پس ایسی تقاریب یقیناً با برکت ہیں لیکن انہیں برکت سے ہمیشہ ہی بھر پور رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس روح کو زندہ رکھا جائے جس کی خاطر یہ منعقد کی جاتی ہیں۔خدام کو یادرکھنا چاہئے کہ ان کا یہ دفتر ان کے لئے ثانوی قسم کا ایک مرکز ہے یہ وہ کھونٹا ہے جس کے ساتھ