مضامین بشیر (جلد 4) — Page 401
مضامین بشیر جلد چهارم 401 یقین کرتے ہیں۔اس کی لطیف تشریح یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ۔فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل الصلاة بمسجدى مكة والمدينة ) یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری یہ مسجد آخری مسجد ہے۔پس جب آپ کی مدینہ والی مسجد کے بعد اسلامی ملکوں میں لاکھوں کروڑوں نئی مسجدوں کے بننے أَنَا آخِرُ الانبیاء کا مفہوم باطل نہیں ہوتا تو آپ کے بعد آپ کے کسی خادم اور شاگرداور خوشہ چین کے نبوت کا انعام پانے سے اخر الانبیاء کے مفہوم میں کس طرح رخنہ پیدا ہو سکتا ہے؟ یہ ایک موٹی سی بات ہے مگر معلوم نہیں کہ مولا نا عبد الماجد صاحب جیسا عالم اور سمجھدار انسان اس معمولی سے نکتہ کو سمجھنے سے کیوں قاصر رہا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ اس مسئلہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلمی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے“ ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207-208) بہر حال ہم خدا کے فضل سے اپنے خالق و مالک آسمانی آقا کی قسم کھا کر کہتے ہیں وَ لَعْنَتُ اللهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ کہ ہمارے نزدیک یقینا یقیناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں اور ہمیں حضور کی ختم نبوت پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ ہمیں اپنے وجود پر یا چاند اور سورج کے باوجود پر یقین ہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر۔اور ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جیسا کہ رسول پاک نے خود فرمایا ہے یقیناً آپ ہی اخر الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد آپ کی اتباع میں اور آپ کے فیض سے نبوت کا انعام پانے والا آپ سے جدا نہیں بلکہ آپ ہی کے وجود کا حصہ ہے اور اس کی نبوت آپ کی عالمگیر نبوت میں شامل ہے نہ کہ اس سے الگ۔بایں ہمہ چونکہ آجکل بعض اوقات غیر از جماعت لوگ مخالفت کی وجہ سے یا ناواقفی کی بنا پر ہمارے الفاظ کو غلط معنی دے کر دوسرا رنگ پیدا کر دیتے ہیں اور بدظنی پھیلاتے ہیں اس لئے ہمارے دوستوں کو بھی چاہئے