مضامین بشیر (جلد 4) — Page 393
مضامین بشیر جلد چهارم 393 کہ جمہوریت ختم ہوگئی یقیناً سلامت روی کا طریق نہیں۔پس دوستو اور عزیز و! انتظار کرو اور دیکھو تجربہ کرو اور پرکھو۔اور پھر بصیرت کے ساتھ کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرو اور ملک کو تباہی سے بچاؤ اور پھر بچاؤ اور پھر بچاؤ۔ہاں ایک بات ضرور موجودہ دستور کے متعلق میرے دل میں کچھ کھٹکتی رہی ہے اور میں اسے کہہ دینا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ جو وزراء صوبوں میں یا مرکزی حکومت میں چنے جائیں ان کی اکثریت ( بہتر ہوگا کہ تین چوتھائی ) منتخب شدہ ممبروں سے چنے جانے چاہئیں تا کہ انتخاب کی صحیح روح اسمبلیوں کے مشوروں میں کارفرما رہے۔اور ایسا نہ ہو کہ منتخب شدہ ممبر تو ملک کے رسے کو ایک طرف کھینچتے رہیں اور وزراء کی اکثریت دوسری طرف زور لگا رہی ہو۔ایک چوتھائی کی استثناء یا کم و بیش اس لئے رکھنی ضروری ہے تا کہ اگر منتخب شدہ ممبروں کے علاوہ ملک میں قابل جو ہر موجود ہو اور یقیناً موجود ہوتے ہیں تو ان کے مشورہ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔میں کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں اور نہ میں نے کبھی سیاست میں کوئی حصہ لیا ہے۔میری ساری عمر مذہب اور تاریخ کے مطالعہ میں گزری ہے مگر اس وقت ملک کے اندر جو ہنگامہ برپا ہے اس نے میرے دل میں درد پیدا کیا اور میں نے مناسب خیال کیا کہ برادرانِ وطن کے سامنے اپنا مخلصانہ مشورہ پیش کر دوں۔آگے ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے۔بر رسولاں بلاغ باشد و بس محرره 2 اکتوبر 1962ء) روزنامه الفضل 5اکتوبر 1962ء) انڈونیشیا کی احمدی جماعتوں کی تیرھویں سالانہ کانفرنس پر پیغام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ عزیزم مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ ممالک انڈونیشیا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط محررہ 62-6-20 موصول ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ کے مجوزہ جلسہ کو کامیاب کرے اور اُسے انڈونیشیا کی جماعتہائے احمد یہ اور دیگر مسلمان بھائیوں کے لئے مفید اور بابرکت اور نتیجہ خیز بنائے۔آمین۔انڈونیشیا وہ ملک ہے جس کی مسلمان آبادی پاکستان کے بعد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔اس لئے وہ