مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 392 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 392

مضامین بشیر جلد چهارم 392 صحیفوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی نے بدل دیا اور حضرت موسی کی لائی ہوئی شریعت کو ہمارے آقا سرور کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت نے منسوخ کر دیا۔کیونکہ حالات بدل چکے تھے اور اب زمانہ اس دور میں داخل ہو گیا تھا کہ ساری دنیا اور ساری قوموں کے لئے ایک دائگی اور اصولی شریعت نازل کی جائے۔باقی رہا جمہوریت کا نعرہ جس کی آڑ میں سارا واویلا کیا جارہا ہے سو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جمہوریت کسی ٹھوس چیز کا نام نہیں ہے جو ہر صورت میں اور ہر حالت میں اور ہر زمانہ میں ایک ہی رنگ میں قائم رہے یا ایک ہی رنگ میں قائم رکھی جاسکے۔جمہوریت کے بنیادی معنی صرف یہ ہیں کہ حکومت کے معاملات میں ملک کے باشندوں کی آواز کا دخل ہونا چاہئے۔لیکن یہ سوال کہ یہ دخل کس رنگ میں ہو اور کس حد تک ہو یہ حالات پر موقوف ہے۔بہر حال یہ تو ناممکن ہے کہ ملک کی اسمبلی میں ملک کا ہر باشندہ آکر بیٹھ جائے اور رائے دینے لگے۔اس طرح تو کوئی بات بھی طے نہیں پاسکتی اور ایک ایسا ہنگامہ برپا ہو جائے گا جو اصلاح کی بجائے فساد اور تباہی کا موجب ہوگا پس ضروری ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں انتخاب کے طریق کو اختیار کیا جائے اور موجودہ دستور اساسی میں انتخاب کا طریق موجود ہے کیونکہ بہر حال اسمبلیوں کے موجودہ ممبر کسی نہ کسی صورت میں عوام کے منتخب شدہ ہیں اور یہ جمہوریت ہی کی ایک قسم ہے۔ایک دفعہ ہمارے آقا رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک ضروری معاملہ میں اپنے صحابہ کو مشورہ کے لئے بلا یا مگر مشورہ دینے والوں کی اتنی کثرت تھی کہ مجلس میں شور پڑ گیا اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے۔اس پر رسول پاک (فداہ نفسی) نے فرمایا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ اور اپنے چند نمائندے میرے پاس بھیجو تا کہ میں ان کے ساتھ بات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکوں۔چنانچہ یہ لوگ واپس چلے گئے اور اپنے چند نمائندے حضور کی خدمت میں بھجوا دئیے اور حضور نے ان کا مشورہ سن کر آسانی سے فیصلہ فرما دیا۔(ابوداؤد جلد 1 ) یہ وہ بچی جمہوریت ہے جو اسلامی تعلیم کی جان ہے اسے چھوڑ کر یہ کہنا کہ یوں ہو یا یوں نہ ہو سب ایسی باتیں ہیں جو وقتی حالات اور قومی تقاضوں سے تعلق رکھتی ہیں اور جمہوریت کی روح کا ان سے براہ راست واسطہ نہیں۔بلکہ کامل جمہوریت تو دراصل محض فرضی جمہوریت ہے جس کا کسی ملک میں بھی نشان نہیں ملتا۔یعنی کوئی ملک بھی ایسا نہیں جس کا سربراہ ملک کے سارے باشندوں کو اپنے سامنے جمع کر کے ان سے بات کرے۔بہر حال انتخاب اور حد بندی کا طریق اختیار کرنا پڑتا ہے اور وہ طریق موجودہ دستور میں شامل ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ دستور بے عیب ہے مگر اس کے جاری ہوتے ہی خاطر خواہ تجر بہ کے بغیر شور مچانا شروع کر دینا