مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 391 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 391

مضامین بشیر جلد چہارم جمہوریت کی تشریح ہونی ضروری ہے محض نعرے لگانے سے اصلاح کی بجائے فساد پیدا ہوتا ہے 391 پاکستان کی یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ابھی تک اس کے دستور اساسی یعنی کانسٹی ٹیوشن کے متعلق بحث ختم نہیں ہورہی۔جب بھی کوئی دستور اساسی بنتا ہے تو بعض لوگ اس کے خلاف آواز اٹھا کر اسے منسوخ کرانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔پندرہ سال کے طویل عرصہ میں ملک کے اندر یہی ناگوار کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ بات بنتی ہے اور بگڑتی ہے۔پھر بنتی ہے اور بگڑتی ہے۔خدا جانے یہ سلسلہ کب ختم ہوگا اور ملک کو سکھ کا سانس لے کر آگے بڑھنے کی کب توفیق ملے گی؟ حال ہی میں صدرمملکت نے اپنے مشیروں اور بعض دوسرے اہل الرائے اصحاب کے مشورہ سے ایک دستور اساسی بنا کر ملک میں قائم کیا۔مگر ابھی سے اس کے خلاف بعض لوگ مشہور کر رہے ہیں کہ یہ دستور اساسی جمہوریت کے نظریہ کے خلاف ہے اس لئے اسے منسوخ کرنا چاہئے یا کم از کم اسے ایسی صورت میں بدل دینا چاہئے کہ وہ ان کے زعم کے مطابق جمہوری نظام کے مطابق ہو جائے۔اس تعلق میں مسلسل مضمون لکھے جا رہے ہیں۔جلسے کئے جا رہے ہیں اور تقریروں کے ذریعہ ملک کے اندر شور برپا کر دیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ موجودہ دستور اساسی آسمانی وحی کی طرح ہے اور اسے بدلا نہیں جا سکتا۔نہ میں یہ کہتا ہوں کہ اس دستور میں کوئی نقص نہیں اور نہ یہ کہ اس میں کسی اصلاح کی ضرورت نہیں۔بہر حال وہ انسانوں کا بنایا ہوا ایک قانون ہے جسے حقیقی ضرورت کے وقت یقیناً بدلا جا سکتا ہے اور کوئی معقول انسان ایسی تبدیلی پر جو مناسب تجربہ کے بعد کی جائے اعتراض نہیں کر سکتا۔لیکن ایک دستور کے جاری ہوتے ہی اس کا تجربہ کرنے اور اس کے حسن و فتح کو پر کھنے کے بغیر واویلا شروع کر دینا کہ لیجئو دوڑ یو ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہرگز دانشمندی کا شیوہ نہیں۔آخر ہر نئی چیز جو بالبداہت غلط نہ ہو اور بظاہر معقول پیرایہ میں پیش کی گئی ہو اس بات کا حق رکھتی ہے کہ مناسب وقت تک اس کا تجربہ کیا جائے اور اس کے حسن و فتح کو وقت کی کٹھالی میں ڈال کر پر کھا جائے۔یہی صحیح اور دانشمندانہ طریق ہے۔ورنہ ہمارا ملک دنیا کی نظروں میں کھیل بن جائے گا اور قو میں اس پر ہنسی کریں گی کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ ایک عمارت ابھی بن کر تیار ہوئی ہے اور وہ اسے گرانا شروع کر دیتے ہیں۔یوں تو آسمانی وحی میں بھی حالات کے بدل جانے سے تبدیلی کا رستہ کھلا ہوتا ہے چنانچہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے