مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 352 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 352

مضامین بشیر جلد چهارم 352 ہوں اس لئے ذیل میں ایک نہایت مختصر نوٹ کے ذریعہ دوستوں کو بعض ان نیکیوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے ساتھ رمضان کے مبارک مہینہ کو مخصوص مناسبت ہے۔اسلام میں سب سے اول نمبر پر اور سب سے مقدم خدائے واحد کے ساتھ انسان کے ذاتی اور براہ راست تعلق کا سوال ہے جس پر قرآن وحدیث نے انتہائی زور دیا ہے اسی لئے حدیث میں رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہاں دوسرے نیک اعمال کے خدا تعالیٰ نے اور اور اجر مقرر فرمائے ہیں وہاں روزے کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ اس کا اجر میں خود ہوں۔پس رمضان کے روزوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کے ذاتی تعلق پیدا کرنے کی مخصوص تاثیر حاصل ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان کے روزوں سے صرف صبح سے لے کر شام تک بھوکا پیاسا رہنا مراد نہیں بلکہ اس میں روزوں کے وہ تمام شرائط اور لوازمات شامل ہیں جن کے متعلق قرآن و حدیث میں تاکید فرمائی گئی ہے۔یعنی پاک نیت کے ساتھ رضائے الہی کے لئے روزہ رکھنا پنج گانہ نماز کی پابندی کے علاوہ نوافل اور خصوصاً تہجد اور تراویح کی نماز ادا کرنا۔ذکر الہی میں مصروف رہنا دعاؤں کے ذریعہ خدا کے حضور جھکے رہنا۔قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔صدقہ و خیرات میں حصہ لینا اور تمام لغویات سے پر ہیز کرنا اور حسب توفیق رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی عبادت بجالا نامراد ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جو شخص پاک نیت کے ساتھ رمضان کی ان تمام مقدس شرائط اور لوازمات کو ادا کرے گا وہ خدا کے فضل سے خالق ہستی کے ساتھ ذاتی اور براہ راست تعلق پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہو گا۔وہ خدا تک پہنچ جائے گا اور خدا اسے مل جائے گا اور خدا اسے اپنے قرب سے نوازے گا۔جو انسان کی پیدائش کی اصل غرض و غایت ہے۔ایسے شخص کی دعا ئیں خدا کے حضور سنت اللہ کے مطابق زیادہ قبولیت کا شرف پائیں گی اور خدا اس کا حافظ و ناصر ہوگا اور اس کے لئے غیرت دکھائے گا۔بیشک اس پر کبھی کبھی ابتلاء کے طور پر امتحان آئیں گے۔مگر یہ امتحان اسے ذلیل کرنے اور نیچا گرانے کے لئے نہیں ہوں گے بلکہ اسے ترقی دینے اور اس کی روح میں مزید جلا پیدا کرنے اور اسے خدا سے قریب تر لانے اور دنیا پر اس کے اندرونی جو ہر ظاہر کرنے کیلئے آئیں گے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ رمضان کے مہینہ کو ان تمام لوازمات کے ساتھ ادا کریں جو اسلام نے بیان کئے ہیں اور ذکر الہی اور دعاؤں اور تہجد اور تراویح کی نماز پر خصوصیت کے ساتھ زور دیں اور قرآن مجید کی تلاوت توجہ کے ساتھ کریں اور جہاں تک توفیق ملے صدقہ و خیرات میں حصہ لیں اور یہ سب باتیں پاک نیست اور دل کی سچی تڑپ کے ساتھ ادا کریں۔پھر وہ دیکھیں گے کہ ایک طرف ان کی روح خدا کی طرف دوڑنا