مضامین بشیر (جلد 4) — Page 328
مضامین بشیر جلد چهارم 328 ہیں۔دوست غور سے سنیں :۔إِنَّ كَمَا لِي فِى اللَّسَانِ الْعَرَنِي مَعَ قِلَّةِ جَهْدِى وَ قُصُورِ طَلَبِى آيَةً وَّاضِحَةٌ مِّنْ رَّبِي لِيُظْهِرَ عَلَى النَّاسِ عِلْمِي وَ اَدْبِى - فَهَلْ مِنْ مَعَارِضِ فِي جُمُوعِ الْمُخَالِفِينَ - وَإِنِّي ذلِكَ عُلِّمْت أَرْبَعِينَ اَلْفاً مِّنَ اللُّغَاتِ الْعَرَبِيَّةِ - وَ أُعْطِيْتُ بَسْطَةٌ كَامِلَةً فِي الْعُلُومِ الْآدَبِيَّةِ - انجام آنقم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 234) یعنی عربی زبان میں میرا کمال باوجود میری کوشش کی کمی اور میری سعی کی قلت کے خدا کی طرف سے ایک روشن نشان ہے تا کہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ لوگوں پر میری خداداد علمی اور ادبی قابلیت ظاہر فرمائے اور مجھے دنیا بھر کے لوگوں پر غالب کر دے۔اب کیا میرے سارے مخالفوں ( کیا ہندوستان اور کیا مصر اور کیا عرب اور کیا شام) میں سے کوئی ہے جو میرے مقابلہ پر اس میدان میں کھڑا ہو سکے ؟ اس علمی اور ادنی کمال پر خدا کا مزید فضل یہ ہے کہ اس نے مجھے عربی زبان کی چالیس ہزار لغات کا معجزانہ رنگ میں علم عطا کیا ہے اور مجھے علوم ادبیہ میں کامل وسعت بخشی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان میں خدا تعالیٰ سے غیر معمولی نصرت پانا اور وحی والہام کے ذریعہ اس زبان میں کمال حاصل کرنا اور خدا کی طرف سے چالیس ہزار عربی لغات کا سکھایا جانا ایک زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جس کی صداقت پر آپ کے سارے مخالفوں نے انتہائی مخالفت کے باوجود اپنی خاموشی بلکہ اپنے گریز کے ساتھ مُہر لگا دی اور کوئی ایک فرد واحد بھی اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آگے نہیں آیا۔بلکہ آپ کا یہ دعوی تو ایسا شاندار دعوی تھا کہ اس پر سمجھدار غیر احمدی علماء تک نے واضح الفاظ میں آپ کی تصدیق کی اور آپ کی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ بر اعظم ہندو پاکستان کے ایک بڑے عالم اور غیر احمدی مفکر علامہ نیاز فتح پوری اپنے اخبار ” نگار میں لکھتے ہیں کہ :۔حضرت مرزا صاحب کی عربی دانی سے مخاطب کا انکار کرنا حیرت کی بات ہے۔شاید آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا صاحب کے عربی کلام نظم و نثر کی فصاحت و بلاغت کا اعتراف خود عرب کے علماء اور فضلاء نے کیا ہے۔حالانکہ انہوں نے کسی مدرسے میں عربی ادبیات کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مرز اصاحب کا یہ کارنامہ بڑا ز بر دست ثبوت ان کے فطری اور وہی کمالات کا ہے۔اخبار نگار لکھنو ستمبر 1961ء) اس جگہ جو کچھ عرب ممالک کے متعلق بیان کیا گیا ہے اس میں حاشا و کلا ہرگز عرب اقوام کی تحقیر