مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 329 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 329

مضامین بشیر جلد چهارم 329 مقصود نہیں۔عرب تو خدا کے فضل سے دین کے معاملہ میں ہمارے اوّلین استاد ہیں۔اور ہم نے بلکہ دنیا بھر نے دین کا پہلا سبق عربوں سے ہی سیکھا ہے اور عرب قوم میں ہی تاریخ عالم کا وہ افضل ترین انسان یعنی حضرت خیر الرسل سید ولد آدم صلے اللہ علیہ وسلم پیدا ہوا جس کے سامنے سب اولین و آخرین کی گردنیں خم ہوتی ہیں۔مگر اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ خدا ساری قوموں کا خدا ہے اور اس کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کو بدل بدل کر تقسیم کرتا ہے۔پس اگر اس زمانہ میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں اور خوشہ چینوں میں سے ایک ہندی خادم کو اصلاح خلق کے لئے چنا ہے تو اس پر عربوں کو بُر امانے کی کوئی وجہ نہیں۔بلکہ وسیع اسلامی اخوت کے مطابق یہ نعمت بھی دراصل انہی کے ایک بھائی کے حصہ میں آئی ہے۔پس میں اپنے عرب بھائیوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ اسلام کی پہلی بارش سے سیراب ہوئے۔اب آؤ اور اسلام کی آخری بارش سے بھی حصہ پاؤ اور انشاء اللہ ضرور ایسا ہوگا کیونکہ خدا نے پہلے سے اپنے مسیح کو یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ۔"يُصَلُّونَ عَلَيْكَ صُلَحَاءُ الْعَرَبِ وَأَبْدَالُ الشَّام “ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 129 ) یعنی اے خدا! کے مسیح وہ وقت آتا ہے کہ عرب کے نیک لوگ اور شام کے اولیاء تیری صداقت کو پہچان کر تجھ پر درود بھیجیں گے۔13 اس موقع پر یہ بات بھی خاص طور پر یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ یہ زمانہ علم زمانہ ہے اور قرآنی پیشگوئی کے مطابق اس زمانہ میں زمین اپنے اشقال یعنی تمام وزنی باتیں باہر نکال نکال کر منظر عام پر لا رہی ہے۔(سورۃ زلزال آیت 3) اس لئے خدا تعالیٰ نے اس زمانے کے موعود کے لئے بھی یہی پسند فرمایا ہے کہ اسے زیادہ تر علمی معجزات سے ہی نوازا جائے اور پرانے زمانے کی ظاہری چمک دمک والی باتوں سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔حتی کہ حضرت سرور کائنات فجر رسل صلے اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں بھی حضرت موسے کے عصا اور ید بیضاء والے معجزات کی بجائے خدا تعالیٰ نے قرآن کی فصاحت و بلاغت اور قرآن کے عجیب و غریب روحانی اور اخلاقی محاسن والا معجزہ پیش کیا اور ان عظیم الشان پیشگوئیوں پر اپنے افضل الرسل کی صداقت کی بنیا د رکھی جو آج سے تیرہ سو سال قبل سے شروع ہو کر آج تک پوری ہو ہو کر اسلام کی سچائی پر مہر لگاتی چلی آئی ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش مغلوب ہوں گے اور مکہ فتح ہوگا اور مکہ فتح ہو کر رہا۔