مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 327 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 327

مضامین بشیر جلد چهارم 327 مدفون ہیں جو غور کرنے والوں کے لئے وقتا فوقتا نکلتے رہتے ہیں اور خدا کے فضل سے آئندہ بھی قیامت تک نکلتے رہیں گے۔اور گوقرآن کی محکم اور بنیادی تعلیم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی مگر نئے نئے انکشافات کے ذریعہ خدا قرآن ہی کی برکت سے ہر قوم اور ہر زمانہ کی روحانی اور اخلاقی ضروریات کو پورا فرما تا رہے گا۔لیکن دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان کا درسی علم بہت محدود تھا بلکہ ایک جگہ خود آپ نے اپنے درسی علم کے متعلق لکھا ہے کہ وہ محض شد یو ڈ تک محدود تھا ( نجم الہدیٰ صفحہ 19) لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل ودماغ میں ایک عالمگیر مصلح کا جو ہر پا کر حضور کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا تو دوسرے کمالات بخشنے کے علاوہ قرآنی علوم کی اشاعت کے لئے عربی زبان میں بھی معجزانہ طریق پر کمال کا مرتبہ عطا فرمایا حتی کہ آپ نے عربی زبان میں کثیر التعداد اعلیٰ درجہ کی نہایت فصیح و بلیغ کتابیں لکھیں اور خدا سے اذن پا کر نہ صرف ہندوستان کے علماء کو چیلنج کیا کہ وہ میرے مقابلہ پر آ کر عربی زبان میں ایسی کتابیں لکھ کر پیش کریں جواد بی معیار کے لحاظ سے بھی اور اپنے حسنِ معانی اور روحانی اور اخلاقی لطائف و غرائب کے لحاظ سے بھی لاجواب ہوں بلکہ آپ نے مصر اور شام اور عرب کے علماء کو بھی چیلنج کیا کہ اگر انہیں میرے خدا دادمشن کے متعلق شک ہے اور اس نصرت الہی کے متعلق شبہ ہے جو خدا کی طرف سے مجھے حاصل ہورہی ہے تو اور باتوں کو چھوڑ کر صرف اسی بات میں میرے دعوی کو آزما لیں کہ وہ میرے مقابلہ پر آ کر عربی زبان میں جو خود ان کی اپنی زبان ہے میرے جیسا فصیح و بلیغ عربی کلام جو اسی طرح معنوی محاسن سے بھی لبریز ہو دنیا کے سامنے پیش کریں۔مگر کیا ہندوستان اور کیا مصر اور کیا شام اور کیا عرب سب کے سب اس خدائی چیلنج پر بالکل خاموش ہو گئے اور حضرت مسیح موعود کی عربی نظم و نثر کے مقابلہ پر اپنا کلام پیش کرنے سے عاجز رہے۔یہ ایک زبر دست نشان اور ایک عظیم الشان معجزہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر خدا نے ظاہر فرمایا کہ گویا ایک ایسی“ کے مقابلہ پر علماء و فضلا کے منہ بند کر دیے۔دنیا جانتی ہے کہ عربی ادب کے میدان میں حضرت مسیح موعود کو ابتداء کوئی درجہ حاصل نہیں تھا بلکہ کسی علم کے لحاظ سے تو آپ اپنے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح قریباً قریباً ایسی ہی تھے اور سوائے چند معمولی ابتدائی درسی کتابوں کے کوئی علم نہیں رکھتے تھے۔مگر جب خدا نے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے چنا اور دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا اور خود آپ کا استاد بنا تو پھر اُس نے اِسی اُسی کو دنیا بھر کے عالموں اور فاضلوں کا استاد بنادیا۔اور اپنی خاص قدرت کے مقابلہ پر اہل زبان کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئیں۔چنانچہ ایک جگہ خدا کے اس خاص فضل و رحمت اور خدا کی اس خاص الخاص عنایت اور نصرت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے 66