مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 326 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 326

مضامین بشیر جلد چهارم 326 دوست غور کریں کہ لکھنے والا خدا کا مامور ومرسل ہے اور مضمون وہ جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ وہ سب پر غالب آئے گا مگر پھر بھی خدا کا یہ برگزیدہ مسیح قدم قدم پر اور سطر سطر پر خدا سے دعا کرتا اور اس کی نصرت کا طالب ہوتا ہے تو جب خدا کے مسیح کا یہ حال ہے تو پھر ہم عاجز بندوں کا اپنے کاموں میں کتنی دعاؤں اور کتنے خدائی سہاروں کی ضرورت ہے!! کاش ہم دعا کی قدر و قیمت کو پہچانیں اور اسے اپنی زندگیوں کا لازمہ بنائیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی روحانی زندگی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لطیف مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔بلکہ انگریزی زبان کے علاوہ بعض دوسری زبانوں میں بھی اس کا ترجمہ ہوکر یورپ اور امریکہ اور دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں پہنچ چکا ہے اور جہاں جہاں بھی یہ کتاب پہنچی ہے نیک فطرت، علم دوست طبقے نے اس کے مضامین کی غیر معمولی بلندی اور گہرائی سے متاثر ہو کر اس کی انتہائی تعریف کی ہے ( مثلاً دیکھو تبلیغ ہدایت، صفحہ 244 تا 246 )۔کاش ہماری جماعت اس بے نظیر کتاب کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ دے تا کہ وہ خدائی نور جو اس مضمون کی تصنیف کے وقت آسمان سے نازل ہوا تھا جلد تر دنیا میں پھیل کر اسلام اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے اور قرآنی صداقت کو دنیا بھر میں پھیلانے کا رستہ کھول دے اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ خدائے عرش اپنے مقدس مسیح کو پہلے سے فرما چکا ہے کہ۔” بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 77) سوامی شوگن چندر صاحب کے متعلق حضرت بھائی قادیانی صاحب اپنی روایت کے آخر میں بیان کرتے ہیں کہ یہ سوامی صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نشان کے سامان پیدا کئے جلسہ کی تمام کارروائی کے دوران میں اور پھر جلسہ کی رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے رہے مگر اس کے بعد معلوم نہیں کہ وہ کیا ہوئے اور کہاں گئے گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں اسی خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب کر دیا۔12 اسلام کی ہمہ گیر اور فاتحانہ تبلیغ کے لئے عربی زبان کا اعلیٰ درجے کا علم ضروری ہے کیونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تھا اور وہ ایک عجیب و غریب روحانی عالم کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بے شمار خزائے