مضامین بشیر (جلد 4) — Page 303
مضامین بشیر جلد چہارم ہم اپنے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پیارے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں کہتے کہ۔العَيْنُ تَدْ مَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزُنُ وَمَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى بِهِ اللَّهَ وَ أَنَا بِفَرَاقِ أَخِيْنَا لَمَحْزُونُونَ 303 ہما را مرحوم بھائی گو پبلک میں نسبتا کم آیا مگر اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو حقیقتا قابل رشک تھیں۔سادہ مزاجی، غریب پروری، ہمدردی، تنگی اور تکالیف میں صبر و شکر اور اس پر خدمت دین اور جماعتی اتحاد کا جذ بہ اور اصابت رائے ایسی باتیں ہیں جن سے ان کی روح میں ایک خاص قسم کا جلا پیدا ہو گیا تھا انہوں نے اپنی طویل اور تکلیف دہ بیماری کو جس ہمت اور صبر کے ساتھ برداشت کیا وہ انہیں کا حصہ تھا۔میں تو جب گزشتہ بیس بائیس سال کے حالات اور واقعات پر نظر ڈالتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ انہوں نے کس ہمت اور ضبط اور صبر وشکر سے ان حالات کو برداشت کیا اور کبھی ایک کلمہ ناشکری کا اپنی زبان پر نہیں لائے۔مگر افسوس کہ ہم ان کی خدمت کا حق ادا نہیں کر سکے۔بعض باتیں تحریر میں نہیں لائی جاسکتیں اور یہ باتیں اکثر لوگوں کی نظر سے اوجھل ہیں لیکن جو لوگ جانتے ہیں وہ ان کی قدر و قیمت کو پہچانتے ہیں اور ان کے دل کی گہرائیوں سے دعائیں اٹھ اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہیں۔اپنی لمبی بیماری کی وجہ سے ہمارے مرحوم بھائی کے دل میں بیماروں کی ہمدردی کا خاص جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ان کی وفات کے بعد ام مظفر احمد کی ایک خادمہ نے مجھے بتایا کہ جب اُم مظفر ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے میوہسپتال لاہور میں بیمار تھیں اور انہیں بہت تکلیف تھی تو میاں شریف احمد صاحب ان کی عیادت کے لئے قریباً روزانہ آتے تھے۔ایک دفعہ ام مظفر احمد بہت بے چین تھیں اور نکور کے لئے گرم پانی کی ضرورت تھی۔انہوں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ پانی گرم کر کے لاؤ اور میرے بستر میں گرم پانی کی بوتل رکھ دو۔خادمہ کو اس کام میں کچھ دیر لگی تو میاں شریف احمد صاحب خود اٹھ کر اور ساتھ والے کمرے میں جا کر پانی گرم کرنے میں مدد دینے لگ گئے اور خادمہ سے کہنے لگے۔وو جلدی کر ان کو تکلیف ہے۔تو نہیں جانتی کہ بیمار کا دل کتنا حساس ہوتا ہے“ وفات سے چند دن قبل کمزوری کی وجہ سے گر گئے اور بازو میں چوٹ آئی اور کلائی کی ہڈی میں کریک (Crack) آ گیا مگر با وجود اس کے جلسہ گاہ کا انتظام دیکھنے کے لئے موٹر میں گئے اور بعض ہدایات بھی دیں مگر چونکہ ہڈی کی چوٹ کا دل پر اثر پڑتا ہے اور وہ پہلے سے دل کے مریض تھے اور ایک سال قبل دل کا سخت حملہ ہو چکا تھا اس لئے تیسرے دن اچانک داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنی جوڑی تو ڑ کر آسمان کی طرف پرواز کر