مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 304 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 304

مضامین بشیر جلد چہارم 304 گئے۔غالبا حکیم سید پیر احمد صاحب سیالکوٹی نے ان کی وفات سے ایک رات قبل جو یہ خواب دیکھی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میاں شریف احمد صاحب کا باز و دبا رہے ہیں اس میں اسی بازو کی تکلیف کی طرف اشارہ تھا۔اللہ اللہ ! محبت اور شفقت کا کیا عالم ہے۔کاش ہمیں بھی دوسری دنیا میں یہ شفقت اور یہ محبت نصیب ہو۔ایک عورت نے ان کی وفات پر خوب کہا کہ۔پنجاں دی جوڑی بوڑی ہو گئی بوڑا پنجابی زبان میں اسے کہتے ہیں جس کا کوئی دانت درمیان میں سے ٹوٹ کر خلا پیدا کر دے۔سود نیا میں تو یہ خلا پیدا ہو گیا مگر خدا تعالئے ایسا کرے کہ آسمان میں کوئی خلا نہ پیدا ہو۔مجھے اس وقت وہ زمانہ یاد آ رہا ہے کہ جب ہم پانچوں بہن بھائی اکٹھے حضرت اماں جان کی آغوش میں حضرت مسیح موعود کے مبارک سائے کے نیچے رہتے تھے۔اب دعا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری اولا د نیکی اور تقویٰ اور خدمت دین پر قائم رہتے ہوئے آخرت میں پھر حضور کے قدموں میں اکٹھی ہو اور سرخرو ہو کر آسمان پر پہنچے۔آمین میں نہیں جانتا کہ میں نے یہ مضمون ( جب کہ میں پہلے ایک مضمون لکھ چکا ہوں) کیوں لکھا ہے إِلَّا حَاجَةٌ فِي نَفْسٍ يَعْقُوبَ تَضَاهَا محرره 13 جنوری 1962ء) روزنامه الفضل 18 جنوری 1962ء) LO 5 در مکنون ( جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ 1961 ء کے مبارک موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مورخہ 27 دسمبر کو صبح کے اجلاس میں ذکر حبیب“ کے موضوع پر جو ایمان افروز اور روح پرور تقریرارشاد فرمائی تھی ذیل میں اس کا مکمل متن ہدیہ احباب کیا جارہا ہے۔ادارہ ) أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اس وقت تک ذکر حبیب“ کے موضوع پر خدا کے فضل سے میری دو تقریریں ہو چکی ہیں۔پہلی تقریر جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر 1959ء میں ہوئی تھی جو سیرۃ طیبہ کے نام سے چھپ چکی ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کے تین مخصوص خصائل پر روشنی ڈالی گئی تھی یعنی