مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 302 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 302

مضامین بشیر جلد چہارم 302 ہوئی ہو گی۔چنانچہ حکیم سید پیر احمد صاحب کی یہ رویا بھی اس پر شاہد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ نے عالم بالا میں ان کی تیمارداری میں حصہ لے کر ان کے ساتھ غیر معمولی محبت کا اظہار فرمایا۔اللَّهُمَّ اغْفِرُهُ وَ ارْفَعُ مَقَامَهُ فِي أَعْلَى عِمِّيِّينَ وَكُنْ مَعَ أَهْلِهِ وَ عَيَالِهِ وَ مَعَنَا أَجْمَعِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 12 جنوری 1962ء) روزنامه الفضل 17 جنوری 1962ء) 4 بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانئے کیا یاد آیا عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی وفات پر اب قریباً ہمیں دن گزر چکے ہیں مگر ابھی تک ان کے متعلق غم و حزن اور نقصان کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور طبیعت میں بہت بے چینی رہتی ہے۔ان کی وفات گو میں اکیس سال کی لمبی بیماری کے بعد ہوئی اور اس دوران میں کئی سخت خطرے کے وقت آئے مگر باوجود اس کے ان کی وفات ایسی اچانک ہوئی کہ اب تک ان کی وفات کا یقین نہیں آتا۔دوسری طرف وہ دن بھی جلسہ سالانہ کے دن تھے جس کی گوناگوں مصروفیتوں اور ذمہ داریوں میں ان کی وفات یوں محسوس ہوئی کہ گویا ایک تیز رفتار بگولا آیا اور ہمارے سروں پر سے تیزی کے ساتھ گزرگیا اور خدا نے اپنے خاص الخاص فضل سے ہمارے دلوں میں اتنی مضبوطی اور صبر کی کیفیت پیدا کی کہ جلسہ کے سارے کام اپنی پوری شان اور پورے التزام کے ساتھ تکمیل کو پہنچ گئے وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ ذُوالْفَضْل الْعَظِيم - مگر جب جلسہ کا ہنگامہ گزرگیا اور خدا نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سرخرو کیا اور طبیعت نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی طولانی بیماری اور بیماری کی تکالیف اور پھر ان کی اچانک وفات کے حالات پر سوچنے اور غور کرنے کی مہلت پائی تو ( خدا ہمیں بے صبری سے بچائے اور اپنا صابر و شاکر بندہ رکھے) ان کی جدائی پر غم وحنون کا احساس بڑھ رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پتھروں کی ایک مضبوط عمارت جو پانچ پتھروں کے باہم پیوست ہونے کی وجہ سے اپنے بانی کی وفات کے بعد 54 سال سے ایک پختہ چٹان کی طرح قائم تھی اس میں سے ایک پتھر اور پتھر بھی وسطی پتھر اچانک الگ ہو کر خلا پیدا کر گیا ہے۔مگر