مضامین بشیر (جلد 4) — Page 301
مضامین بشیر جلد چهارم 301 اور اچھے ماحول میں تعلیم پانے والے نو جوان آئندہ چل کر جماعتی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی اہلیت پیدا کر لیتے ہیں۔روزنامه الفضل 11 جنوری 1962ء) میاں شریف احمد صاحب کے متعلق ایک دوست کا لطیف رویا محترم با بو قاسم دین صاحب امیر جماعت احمد یہ سیالکوٹ اطلاع دیتے ہیں کہ مکرم حکیم سید پیر احمد شاہ صاحب سیالکوٹ نے 25 و 26 دسمبر 1961ء کی درمیانی رات کو خواب دیکھا (یعنی جس کے بعد میاں شریف احمد صاحب صبح آٹھ بجے فوت ہو گئے ) کہ میاں شریف احمد صاحب چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی چار پائی کے ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور دوسری طرف حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ ہیں۔میاں شریف احمد صاحب کے بازو میں بہت درد ہو رہا ہے اور انہوں نے حضرت مسیح موعودؓ سے عرض کیا کہ میرے بازو میں درد ہوتا ہے۔( میاں شریف احمد صاحب وفات سے دو تین دن قبل گر گئے تھے جس سے ان کی کلائی اور بازو میں کافی چوٹ آئی تھی اور ہڈی کی چوٹ کا دل پر خاص اثر پڑا کرتا ہے) جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے بازو کو اپنے ہاتھ سے دبانا شروع کر دیا ہے اور دوسری طرف حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ ان کے دوسرے بازو کو دبا رہی ہیں۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں شریف احمد صاحب کو محبت کے ساتھ فرمایا۔”بیٹا فکر نہ کرو۔تم دس بجے سے پہلے میرے پاس پہنچ جاؤ گے“ با بو قاسم دین صاحب لکھتے ہیں کہ حکیم سید پیر احمد شاہ صاحب یہ رویا بیان کر کے زار زار رونے لگ گئے۔حکیم صاحب موصوف بہت مخلص احمدی ہیں اور ان کی یہ رویا بالکل حق ہے اور خدا کی طرف سے ہے جس پر بعد کے واقعات پوری طرح شاہد ہیں کیونکہ دوسرے دن صبح دس بجے سے پہلے ہی میاں شریف احمد صاحب خدا کو پیارے ہو گئے۔عزیز میاں شریف احمد صاحب نے جتنی لمبی بیماری کائی (اور یہ بیماری بڑی تکلیف دہ تھی ) اور اس میں جس انتہائی صبر وشکر کا نمونہ دکھا یا وہ ہم سب کے لئے ایک پاک نمونہ ہے۔مجھے یقین ہے کہ رسول پاک کے ارشاد کے مطابق یہ بیماری آخرت میں میاں شریف احمد صاحب کے لئے غیر معمولی رفع درجات کا موجب