مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 229 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 229

مضامین بشیر جلد چهارم 229 تھی۔ایسی اکثر جائیداد میں ایک لمبے عرصے سے قریباً قریباً ذاتی جائیدادیں بن کر رہ گئی تھیں اور ان کے محاصل اور اخراجات کا کوئی تسلی بخش انتظام نہیں تھا لیکن اگر اس کے مقابل پر خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی مرکزی جائیدادیں اور محاصل کے حالات دیکھے جائیں تو عظیم الشان امتیاز اور زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔وَلَا فَخْرَ۔(5) جہاں تک محاصل کی نگرانی اور حسابی کنٹرول کا سوال ہے یہ امتیاز ذیل کے مختصر سے فقرات میں بیان کیا جا سکتا ہے: (الف) جہاں مزاروں اور خانقاہوں اور مسجدوں اور یتیم خانوں وغیرہ کی آمد کسی منظم طریق پر نہیں ہوتی وہاں جماعت احمدیہ کی آمد جو مقررہ چندوں یا جماعتی جائیدادوں کی صورت میں ہوتی ہے وہ مختلف شہروں اور قصبات اور دیہات کے مرکزی یا مقامی عہدیداروں کے ذریعے باقاعدہ جمع ہو کر مرکز میں آتی اور با ضابطہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔(ب) ربوہ کی انجمن ایک باقاعدہ رجسٹر ڈ باڈی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ ہر رجسٹر باڈی حکومت کی عمومی نگرانی اور اصولی پڑتال کے نیچے ہوتی ہے۔( ج ) جماعت احمدیہ کی انجمن کے کام کو چلانے کے لئے بہت سے علیحدہ علیحدہ دفاتر مقرر ہیں جو علیحدہ علیحدہ افسروں کے ماتحت منظم طریق پر کام کرتے ہیں اور ہر دفتر میں کارکنوں اور ماتحت افسروں وغیرہ کا باقاعدہ عملہ مقرر ہوتا ہے اور جملہ افسروں کے اوپر ایک بالا افسر نگران ہے جو مختلف دفتروں اور صیغوں کے کام کی نگرانی کرتا ہے۔( د ) جماعت احمدیہ کی انجمن کا بجٹ مقامی جماعتوں کی رپورٹوں کے بعد کافی غور و خوض کے بعد انجمن کے مطبوعہ فارموں پر انجمن کے اجلاس میں با قاعدہ تجویز کیا جاتا ہے۔(0) پھر اس بجٹ کو تمام مقامی جماعتوں کے منتخب شدہ نمائندے مرکز میں جمع ہو کر جماعت کی مجلس مشاورت کے موقع پر پورے غور و خوض اور بحث اور جرح قدح کے بعد پاس کرتے ہیں۔( و ) انجمن کا ایک باقاعدہ ایڈیٹر مقرر ہے جو مالی اور حسابی لحاظ سے انجمن کے مختلف صیغوں اور دفاتر کا معائنہ کرتا رہتا ہے اور اس معائنہ کی رپورٹ بالا افسر کے پاس جاتی ہے اور حسب ضرورت جواب طلبی بھی کی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔( ز ) انجمن کے اپنے ایڈیٹر کے علاوہ انجمن کے حساب کتاب اور آمد وخرچ کی پڑتال سرکاری سند یافتہ