مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 228 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 228

مضامین بشیر جلد چہارم 228 پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہماری طرف سے کئی دفعہ الفضل وغیرہ کے ذریعے اس غلط پراپیگنڈہ کا جواب بھی دیا جا چکا ہے اور وضاحت اور تکرار کے ساتھ بدلائل بتایا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ کی مرکزی جائیداد اور محاصل کے حالات مسجدوں اور مزاروں اور خانقاہوں اور یتیم خانوں وغیرہ کی جائیدادوں اور محاصل سے اتنے مختلف اور متغیر ہیں کہ ہر دانا شخص ادنی تامل سے اس فرق کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔لیکن چونکہ اس معاملے میں ملک کے ایک طبقے کی طرف سے پراپیگنڈے کا سلسلہ برابر جاری ہے اس لئے ہم ایک دفعہ پھر ( اور خدا کرے یہ آخری دفعہ ہو ) بادل نخواستہ اس اعتراض کا مختصر اور اصولی جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔(3) سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ جہاں تک وقف ایکٹ کا سوال ہے۔کیا جماعت احمدیہ کی جائیدادیں اور محاصل بھی اس غرض کے ماتحت قانونی طور پر وقف سمجھے جاسکتے ہیں؟ بعض وکیلوں اور قانون دانوں کا خیال ہے کہ وہ محکمہ وقف کی اغراض کے مطابق وقف قرار نہیں دیئے جاسکتے۔پھر یہ بھی ہے جماعت احمدیہ کے جماعتی محاصل کسی ایک غرض یا چند اغراض تک محدود نہیں اور نہ وہ محض مقامی ہیں بلکہ نہایت درجہ متنوع اور وسیع اغراض پر پھیلے ہوئے عالمگیر نوعیت رکھتے ہیں۔لیکن بہر حال یہ ایک قانونی سوال ہے اور میں قانون دان نہیں ہوں اس لئے میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا اور وقف اور غیر وقف کے سوال کو قانون دانوں کی رائے پر چھوڑتا ہوں جس کا آخری فیصلہ بہر حال دانش مندانِ حکومت کے ہاتھ میں ہے اور حکومت اپنے قانون کی تشریح اور اس کی غرض وغایت اور اپنے مصالح کو بہتر بجھتی ہے۔(4) لہذا اس جگہ میں اس سوال کے صرف اس پہلو پر روشنی ڈالوں گا کہ اگر بالفرض جماعت احمدیہ کی جائیدادیں اور محاصل وقف ایکٹ کے ماتحت وقف ہی قرار دیئے جائیں تو پھر بھی کیا حکومت انہیں جائز طریقے پر اپنی تحویل میں لے سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے محاصل کا طریقہ اور ان کی جائیدادوں کے انتظام کا معیار اور حسابی نگرانی کا طور طریقہ اور پڑتال کا اصول اور اخراجات کا تنوع ( یعنی بے شمار شاخوں میں منقسم ہونا ) اور انتظام کی عالمگیر وسعت اور جماعت کے مخصوص نظریات ایسے ہیں کہ کسی صورت میں بھی اور عقل و دانش کے کسی معیار کے مطابق بھی انہیں ملک کے اندر کی مسجدوں اور مزاروں اور خانقاہوں اور یتیم خانوں وغیرہ کی جائیدادوں اور محاصل اور اخراجات کی نوعیت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔گورنمنٹ کا یہ بھاری احسان ہے کہ اس نے مزاروں اور خانقاہوں اور مسجدوں اور دیگر مقدس مقامات کی جائیدادوں اور ان کے محاصل کو اپنی تحویل میں لے کر اس اندھیر نگری کو روک دیا ہے جو اس میدان میں ہورہی