مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 230 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 230

مضامین بشیر جلد چهارم 230 رجسٹر ڈ ایڈیٹروں کے ذریعہ بھی کروائی جاتی ہے اور ان کے معائنہ کی رپورٹ انجمن کے ہیڈ آفس میں محفوظ رکھی جاتی ہے (6) پھر انجمن کا خرچ کسی ایک کام اور ایک غرض و غایت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم اور تبلیغ اسلام اور تربیت اور تعمیر مساجد اور تراجم قرآن مجید اور اشاعت لٹریچر اور اخباروں اور رسالوں اور کتب کی تصنیف و اشاعت اور امداد غرباء اور دیگر رفاہ کے کثیر التعداد کاموں پر خرچ ہوتا ہے۔(7) سب سے بڑی بات یہ ہے اور یہ بات خاص طور پر غور کے قابل ہے ) کہ انجمن کا یہ بیشمار شاخوں والا کام صرف پاکستان کے اندر محدود نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر آزاد ملکوں بلکہ انگلستان، جرمنی ، ہالینڈ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، سوئٹزرلینڈ ، سپین، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، ٹرینیڈاڈ ، لبنان، کینیا، یوگنڈا، ٹانگانیکا، نایجیریا، گھانا، سیرالیون، لائبیریا، سینیگال، ملایا، جاوا، سماٹرا، سیلی بیز، بور نیو، فنی اور ہندوستان وغیرہ وغیرہ میں نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں جماعت کے مخلص کارکن دن رات تبلیغ اور تربیت اور تعلیم اور اشاعت لٹریچر وغیرہ کے مقدس فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔(8) پھر یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت مسلمانوں کے بہت سے فرقے ہیں یعنی سنی ، شیعہ، اہل حدیث، اہل قرآن، دیوبندی، بریلوی، احمدی، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی ، سہروردی، نقشبندی وغیرہ وغیرہ اور ہر فرقہ اسلامی مسائل کی تشریح میں اپنے اپنے مخصوص نظریات رکھتا ہے جن پر وہ دیانت داری کے ساتھ قائم ہے اور تبلیغ اور تربیت کے میدان میں ان نظریات کو جو عملی اہمیت حاصل ہے اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔خانقاہوں اور مزاروں اور مسجدوں کی ملحقہ جائیدادوں اور تعلیمی اداروں کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے۔ان میں مخصوص مذہبی نظریات اور تشریحات کو ہرگز وہ اہمیت حاصل نہیں جو تبلیغ اور تربیت کے میدان میں انہیں حاصل ہے۔پس فرق ظاہر ہے خدا جانتا ہے کہ میں اس جگہ کوئی فرقہ وارانہ سوال نہیں اٹھانا چاہتا مگر ایک تبلیغی جماعت کے لئے جسے تبلیغی اور تربیتی دونوں کام کرنے ہوتے ہیں اس سوال کو جو وزن حاصل ہے اس کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ایک شیعہ جب تبلیغ اور تربیت کے میدان میں آئے گا تو لازماً اگر وہ دیانتداری پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اس کی تشریح اور اس کا اسلوب بیان ایک سنی سے مختلف ہوں گے اس پر دوسرے اسلامی فرقوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔(9) اب انصاف کے ساتھ غور کرو کہ اس قسم کے وسیع اور بے شمار شاخیں رکھنے والے مخصوص نظریات