مضامین بشیر (جلد 4) — Page 151
مضامین بشیر جلد چهارم إِنَّ الصَّحَابَةٌ كُلَّهُمْ كَذكَـاء قَدْ نَوَّرُوْا وَجُهَ الْوَرى بِضِيَاء تَرَكُوا أَقَارِبَهُمْ وَحُبَّ عِيَالِهِمْ جَاءُ وَا رَسُوْلَ اللهِ كَالفُقَرَاءِ ذُبِحُوا وَمَا خَافُوا الْوَرَى مِنْ صِدْقِهِمْ بَلُ أثَرُوا الرَّحْمَنَ عِندَ بَلَاء تَحْتَ السُّيُونِ تَشَهَّدُوا لِخُلُوصِهِمْ شَهِدُوا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْأَمْلَاءِ الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُوْنَ لِرَبِّهِمْ الْبَائِتُونَ بذِكرِهِ وَ بُكاء قَوْمٌ كِرَام لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمُ كَانُوا لِخَيْرَ الرُّسُل كَالْأَعْضَاءِ 151 سر الخلافہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 397) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سورج کی طرح روشن تھے انہوں نے ساری دنیا کو اپنے نور سے منور کر دیا۔انہوں نے صداقت کی خاطر اپنے رشتہ داروں کو اور اپنے اہل وعیال کی محبت تک کو خیر باد کہہ دیا۔اور رسول اللہ کی آواز پر غریب درویشوں کی طرح بے گھر اور بے در ہو کر آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔وہ خدا کے رستہ میں برضا و رغبت ذبح کئے گئے اور انہوں نے سچائی کی خاطر دنیا کا ذرہ بھر خوف نہیں کیا بلکہ ہر امتحان اور ہر آزمائش کے وقت خدائے رحمان کو ترجیح دی۔انہوں نے تلواروں کی جھنکار میں شہادت کے جام تلاش کئے اور ہر مجلس میں صداقت کی گواہی کے لئے بے خوف و خطر تیار رہے۔وہ نیک اور متقی اور صرف خدا سے ڈرنے والے لوگ تھے اور خدا کی یاد میں گریہ وزاری سے راتیں گزارتے تھے۔وہ ایسی برگزیدہ جماعت تھی کہ ایمان واخلاص کے لحاظ سے ہم ان میں کوئی فرق نہیں کر سکتے۔وہ اپنے آقا کے ساتھ دائیں اور بائیں جسم کے اعضاء کی طرح لیٹے رہے اور نصرت اور اعانت اور قربانی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق کس محبت کے ساتھ اور کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں: