مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 152

152 مضامین بشیر جلد چہارم حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے۔اور بلا شبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اُس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔“ 5 ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 654) اسلام کے گزشتہ مجددین کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی غیرت رکھتے تھے۔ایک دفعہ لاہور میں ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنے بچپن کے زمانہ میں جہانگیر کا شاندار مقبرہ دیکھنے کا شوق ظاہر کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا: ”میاں تم جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے بے شک جاؤ لیکن اس کی قبر پر نہ کھڑے ہونا کیونکہ اس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجددالف ثانی" کی ہتک کی تھی۔“ ( روایات میاں عبدالعزیز صاحب مغل مرحوم ) تین سوسال سے زائد زمانہ گزرنے پر بھی ایک مسلمان بادشاہ کے ایسے فعل پر جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلامی تاریخ میں گویا ایک عام واقعہ ہے کیونکہ مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں ایسے کئی واقعات گزر چکے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس قدر غیرت ظاہر کرنا اور حضرت مجد دالف ثانی کے لئے بھائی جیسا پیارا لفظ استعمال کرنا اُس یگانگت اور محبت اور عقیدت کی ایک بہت روشن مثال ہے جو آپ کے دل میں امت محمدیہ کے صلحاء کے لئے موجزن تھی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ارشاد میں خود وضاحت فرما دی ہے۔حضور کی اس ہدایت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی مسلمان کو جہانگیر کا مقبرہ نہیں دیکھنا چاہئے۔وہ ایک جاہ وجلال والا مسلمان بادشاہ تھا اور ہمیں اپنے قومی اکا بر اور بزرگوں کی بھی عزت کرنے کا حکم ہے مگر چونکہ حضرت مسیح موعود اپنے بچوں کے دل میں غیر معمولی اسلامی غیرت اور صلحاء امت کا غیر معمولی ادب پیدا کرنا چاہتے تھے اس لئے آپ نے اس موقع پر اپنی اولاد کو ایک خاص نوعیت کی نصیحت کرنی مناسب خیال فرمائی۔