مضامین بشیر (جلد 4) — Page 150
مضامین بشیر جلد چهارم ·3۔150 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے مثال محبت بلکہ عشق کا ذکر میری گزشتہ سال کی تقریر موسومہ سیرت طیبہ میں گزر چکا ہے۔یہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے عشق کا تتمہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کو تمام دوسرے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی غیر معمولی محبت تھی اور آپ اپنے عظیم الشان مقام کے باوجود ان سب کا بے حد ادب کرتے تھے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: ما ہمہ پیغمبراں بچو خاکے ہر اوفتاده چا کریم پردری رسولے کو طریق حق نمود جان ما قرباں براں حق پرورے (براہین احمدیہ حصہ اول) یعنی میں ان تمام رسولوں اور نبیوں کا خدمت گزار ہوں جو دنیا میں خدا کا رستہ دکھانے کے لئے آتے رہے ہیں۔اور میں ان کے ساتھ اس طرح پیوستہ ہوں جس طرح ڈیوڑھی کی خاک مکان کے ساتھ پیوستہ ہوتی ہے۔میری جان ان سب پرستاران خدا پر ( خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانہ میں آئے ہوں ) دلی محبت کے ساتھ قربان ہے۔کیونکہ وہ میری طرح میرے آسمانی آقا کے خادم ہیں۔اور چونکہ بعض نا واقف لوگوں کی طرف سے حضرت مسیح ناصری کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خاص طور پر اعتراض کیا گیا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ حضرت عیسی کی ہتک کی ہے اس لئے آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق خاص طور پر فرمایا کہ: بخدا میں وہ سچی محبت اس سے رکھتا ہوں جو تمہیں ہر گز نہیں اور جس نور کے ساتھ میں اسے شناخت کرتا ہوں تم ہر گزا سے شناخت نہیں کر سکتے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا کا ایک پیارا اور برگزیدہ نبی تھا۔“ ( دعوت حق مشمولہ حقیقته الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 617) 4 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ کی آل و اولاد کے ساتھ بھی حضرت مسیح موعود کو نہایت درجہ عقیدت تھی۔چنانچہ صحابہ کرام کے متعلق کسی عقیدت سے اور کس دلی جوش و خروش کے ساتھ فرماتے ہیں: