مضامین بشیر (جلد 4) — Page 149
مضامین بشیر جلد چهارم 149 دیا تھا پھر اگر اس کے بعد لالہ صاحب ایک سال کے اندر اندر ایسی موت کے عذاب میں مبتلا نہ ہوئے جس میں انسانی ہاتھوں کا کوئی دخل متصور نہ ہو سکے تو میں جھوٹا ہوں گا اور مجھے بے شک ایک قاتل کی سزا دی جائے۔چنانچہ آپ نے بڑے زور دار الفاظ میں لکھا کہ: ” میں تیار ہوں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھہر جاؤں تو مجھ کو پھانسی دیا جائے۔میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیشگوئی پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے۔پس ہرگز ممکن نہیں ہوگا کہ میں پھانسی ملوں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 75) دوسری جگہ اپنے الہامات کے متعلق یقین کامل کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے۔اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شخص شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر “ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412) دوست غور کریں کہ یہ کس درجہ کا ایمان اور کیسا پختہ اور کیسا کامل یقین ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کفر و ایمان کی بازی لگاتے ہوئے پھانسی کے تختہ پر چڑھنے کے لئے تیار تھے۔لاریب ایسا ایمان صرف اسی شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہوا اور اپنے کانوں سے اس کا کلام سنتا ہو۔کوئی شخص اپنی سمجھ کی کمی یا اپنے تدبر کی کوتاہی یا اپنے تعصب کی فراوانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماموریت کے دعوئی میں شک کر سکتا ہے مگر کوئی ہوش وحواس رکھنے والا انسان اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ آپ کو اپنے خدا داد مشن کے متعلق کامل یقین تھا۔ایک جلد باز انسان آپ کو دھوکا خوردہ خیال کر سکتا ہے جیسا کہ بعض بظاہر غیر متعصب مغربی مصنفین نے اپنی کو تہ بینی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خیال کیا ہے۔مگر کوئی شخص جس میں ابھی تک نور ضمیر کی تھوڑی سی روشنی بھی باقی ہے آپ کو دھوکا دینے والا قرار نہیں دے سکتا۔