مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 148 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 148

مضامین بشیر جلد چهارم 148 " مرزا مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔اس کا پُر زور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔۔اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں، مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔“ 2 کرزن گزٹ دہلی۔یکم جون 1908ء) اس کے بعد سب سے پہلی بات جو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں اور یہ ان بکھرے ہوئے موتیوں میں سے پہلا موتی ہے وہ اُس پختہ اور کامل یقین کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جو حضرت مسیح موعود کو اپنے خداداد مشن کے متعلق تھا۔یہ وصف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں اس کا ایک زبر دست جلوہ نظر آتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ اپنے اس یقین کی وجہ سے بڑے سے بڑے پہاڑ کے ساتھ ٹکر لینے کے لئے تیار ہیں۔بسا اوقات اپنے خدا دادمشن اور اپنے الہامات کے متعلق مؤکد بعذاب قسم کھا کر فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی مرئی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہوسکتا ہے۔اور بعض اوقات اپنی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہوں گی۔اور اگر وہ سنت اللہ کے مطابق پوری نہ ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے۔چنانچہ جب ایک متعصب ہندو لالہ گنگا بشن نے پنڈت لیکھرام والی پیشگوئی پر یہ اعتراض کیا کہ پنڈت لیکھرام کی موت پیشگوئی کے نتیجہ میں نہیں ہوئی بلکہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود نے پنڈت جی کو خود قتل کر دیا تھا تو حضرت مسیح موعود نے جواب میں انتہائی غیرت اور تحدی کے ساتھ فرمایا کہ اگر لالہ گنگا بشن کا واقعی یہی خیال ہے تو وہ اس بات پر قسم کھا جائیں کہ نعوذ باللہ میں نے خود پنڈت لیکھرام کوقتل کرا