مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 147 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 147

وو مضامین بشیر جلد چهارم 147 گوحقیقتا کسی انسان کے اخلاق بھی فی الواقعہ غیر مربوط نہیں ہوتے ) پہلوؤں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تا کہ ہمارے دوستوں کو معلوم ہو اور دنیا پر بھی ظاہر ہو جائے کہ محمدی سلسلہ کا مسیح اپنے مربوط اخلاق اور بظاہر غیر مربوط اخلاق دونوں میں کس شان کا مالک تھا۔اسی لئے میں نے اپنے موجودہ مضمون کا نام در منشور یعنی چند بکھرے ہوئے موتی“ رکھا ہے۔یقینا ان بکھرے ہوئے موتیوں کو بھی ایک گہرے ربط ونظم کی زنجیر باندھے ہوئے ہے جو ایک طرف خالق کی محبت اور دوسری طرف مخلوق کی ہمدردی کے ساتھ فطری طور پر منسلک ہے۔لیکن چونکہ بظاہر یہ اخلاق متفرق نوعیت کے ہیں اس لئے میں نے انہیں در منثور کا نام دیا ہے۔اور اسی مختصر تمہید کے ساتھ میں اپنے اس مضمون کو خدائے رحمان و رحیم کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أَنِيبُ 1 كم یہ ایک عجیب بات ہے جس میں اہلِ ذوق کے لئے بڑا لطیف نکتہ ہے کہ گو مقدس بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح ناصرتی کے مثیل کی حیثیت میں مبعوث ہوئے اور آپ اپنی جماعت میں زیادہ تر اسی نام اور اسی منصب کے ساتھ پکارے جاتے ہیں مگر باوجود اس کے آپ نے اپنی سیرت اور اپنے اخلاق واوصاف میں حضرت مسیح ناصری کی نسبت اپنے آقا اور مطاع اور اپنے دلی محبوب حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بہت زیادہ ورثہ پایا ہے۔چنانچہ خود فرماتے ہیں: پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار (براہین احمدیہ حصہ پنجم ) یعنی گو میں مسیح ناصری کا مثیل بنا کر بھیجا گیا ہوں جنہیں ان کے یہودی دشمنوں نے صلیب پر چڑھا دیا تھا مگر میرا اصل منصب محمدی نیابت سے تعلق رکھتا ہے جس کے ساتھ غلبہ اور کامیابی مقدر ہو چکی ہے۔اس لئے جہاں عیسائیوں کے قول کے مطابق حضرت مسیح ناصری تین سال کی مختصر اور محد و دسی مامورانہ زندگی پا کر ایلی ایلی لِمَا سَبَقْتَانِی کہتے ہوئے جاں بحق ہو گئے وہاں خدا تعالیٰ نے مسیح محمدی کو ہر قسم کے موافق و مخالف حالات میں سے گزارا اور گونا گوں اخلاق کا موقع عطا کیا اور آپ کو اپنے مشن میں ایسی بے نظیر کامیابی بخشی کہ دہلی کے ایک مشہور غیر احمدی اخبار کے قول کے مطابق مخالف تک پکارا تھے کہ: