مضامین بشیر (جلد 4) — Page 110
مضامین بشیر جلد چہارم دوست چندہ امداد درویشاں کو یاد رکھیں یہ ایک اہم جماعتی ذمہ داری ہے 110 کچھ عرصہ سے (خصوصاً جب سے کہ میں ام مظفر احمد کی بیماری کے متعلق لاہور آیا ہوا ہوں ) دفتری رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ چندہ امداد درویشاں میں کافی کمی آگئی ہے۔جس سے مجھے اس قرآنی نکتہ کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے کہ خواہ کوئی کام کیسا ہی مبارک اور اہم ہو اس کے لئے بار بار تذکر یعنی یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ احباب جماعت میں غفلت پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔سو میں اس مختصر نوٹ کے ذریعہ تمام مخلص بھائیوں اور بہنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ امداد درویشاں کا چندہ ایک اہم جماعتی ذمہ داری ہے جس کی طرف سے مخلصین جماعت کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔جو در ویش ( اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام کے مطابق حقیقتا درویش ہیں ) اس وقت قادیان کے مقدس مقامات کو آباد رکھنے کے لئے دھونی رمائے بیٹھے ہیں وہ دراصل اس کام میں ساری جماعت کے نمائندہ ہیں اور ان کی خدمت ایک بھاری جماعتی خدمت ہے جو یقیناً خدا کے حضور بڑے ثواب کا موجب ہے۔کیونکہ ان میں سے اکثر بڑی تنگی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی طاقت اور خدائی توفیق کے مطابق ان کی امداد کریں۔یہ امداد موجودہ حالات میں زیادہ تر دو طرح سے کی جاتی ہے: (1) اول جن درویشوں کے عزیز و اقارب پاکستان میں ہیں اور وہ اپنے عزیز درویشوں کی امداد سے محروم ہیں ان کی مالی امداد کا انتظام کرنا۔جس میں بوڑھے والدین کی امداد یا بیوہ بہنوں کی امداد یا قریبی عزیزوں کی شادی کے موقع پر امداد یا پاکستان میں تعلیم پانے والے بچوں کی امداد وغیرہ شامل ہے۔(2) جو درویش وقتا فوقتا پاکستان آتے رہتے ہیں اور یہاں آکر ان میں سے اکثر قریباً قلاش ہوتے ہیں ان کی پاکستان میں ضروری امداد کا انتظام کرنا تا کہ وہ ربوہ کی زیارت سے مشرف ہوسکیں اور تازہ مذہبی لٹریچر خرید سکیں اور اپنے ویزا کے مطابق اپنے عزیزوں سے بھی ملاقات کر سکیں جن میں سے بعض دور دراز کے شہروں میں آباد ہیں اور ان کے پاس پہنچنا کافی اخراجات کا متقاضی ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔پس میں جماعت کے مخلص اور مخیر اصحاب سے پھر ایک دفعہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس اہم ذمہ داری کی