مضامین بشیر (جلد 4) — Page 109
مضامین بشیر جلد چهارم 109 کوفت ہوگئی۔پرسوں گھٹنے کی ورم کی وجہ سے ایکسرے لیا گیا مگر خدا کے فضل سے ہڈی میں کوئی نقص نہیں نکلا۔صرف ورم اور درد ہے لیکن بے چینی اور ضعف کا سلسلہ چل رہا ہے اور بعض اوقات بے چینی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔اتم مظفر احمد کی بیماری کے ایام میں احمدی بھائیوں اور بہنوں نے جس غیر معمولی محبت اور ہمدردی کا ثبوت دیا ہے اور جس بچی تڑپ کے ساتھ دعائیں کی ہیں اس کی وجہ سے ہم دونوں کے دل بے حد متاثر ہیں۔دراصل یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان معجزہ ہے کہ اپنے محبوب آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں اپنے متبعین کے دلوں کو ایسی محبت اور اخوت کی زنجیر میں باندھ دیا ہے کہ رسول پاک کے زمانے کے بعد اس کی نظیر نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ تمام بھائیوں اور بہنوں کو بہترین جزا سے نوازے اور انہیں دین ودنیا کے حسنات سے حصہ وافر عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 7 ستمبر 1960ء) ام مظفر احمد ہسپتال سے عزیز مظفر احمد کے مکان میں آگئیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی اہلیہ محترمہ ام مظفر احمد صاحب کی علالت پر اخبار میں احباب جماعت سے دعا کی درخواست کرتے رہے۔19 ستمبر 1960ء کو ان کے گھر آنے پر جو اطلاع دی اس میں تحریر فرمایا۔میں اس وقت پھر ایک دفعہ اپنے تمام مخلص دوستوں اور جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے امّم مظفر احمد کی تشویشناک بیماری میں دردمندانہ دعائیں کیں اور مومنانہ اخوت کا زبر دست ثبوت دیا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین اجر سے نوازے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔اور سب سے بڑھ کر میرا دل اپنے آسمانی آقا کے شکر سے معمور ہے جس نے ہماری دعاؤں کو سنا اور اپنی بے انداز رحمت سے نوازا۔چونکہ اتم مظفر احمد کی طبیعت ابھی تک کافی کمزور ہے اور بے چینی بھی رہتی ہے اور بیمار ٹانگ تا حال حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوئی اور وین (Pin) بھی ابھی تک پوری طرح اپنی جگہ پر نہیں جما اس لئے احباب جماعت کامل صحت کے لئے اپنی دعائیں جاری رکھ کر عنداللہ ماجور ہوں۔( محرره 20 ستمبر 1960 ) روزنامه الفضل ربوہ 24 ستمبر 1960ء)